سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 149 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 149

۱۴۹ پہلا واقعہ یوں ہے : میری عمر جب نو یا دس برس کی تھی ہیں اور ایک اور طالب علم گھر میں کھیل رہے تھے۔وہیں الماری میں ایک کتاب پڑی ہوئی تھی جس پر نیلا جر دان تھا اور وہ ہمارے دادا صاحب کے وقت کی تھی۔نئے نئے علوم ہم پڑھنے لگے تھے اس کتاب کو جو کھولا تو اس میں لکھا تھا کہ اب جبرائیل نازل نہیں ہوتا۔میں نے کہا یہ غلط ہے۔میرے ابا پر تو ناندل ہوتا ہے۔اس لڑکے نے کہا جبرائیل نہیں آتا کتاب میں لکھا ہے۔ہم میں بحث ہو گئی۔آخر ہم دونوں حضرت صاحب کے پاس گئے اور دونوں نے اپنا اپنا بیان پیش کیا۔آپ نے فرما یا۔کتاب اور میں غلط لکھا ہے۔جبرائیل اب بھی آتا ہے۔نے اب یا اسے انه با دوسرا واقعہ یوں ہے :- بیوقوفی کے واقعات میں مجھے بھی اپنا ایک واقعہ یاد ہے۔کئی دفعہ اس واقعہ کو یاد کر کے میں ہنسا بھی ہوں اور بسا اوقات میری آنکھوں میں آنسو بھی آگئے ہیں۔مگر میں اسے بڑی قدیہ کی نگاہ سے بھی دیکھا کرتا ہوں اور مجھے اپنی زندگی کے جن واقعات پر ناز ہے، اُن میں وہ ایک حماقت کا واقعہ بھی ہے وہ واقعہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں ایک راست وخت ہم سب صحن میں سو رہے تھے۔گرمی کا موسم تھا کہ آسمان پر بادل آیا۔اور زور سے گرجنے لگا۔اسی دوران میں قادیان کے قریب ہی کین تجلی گر گئی دیگر اس کی کڑک اس زور کی تھی کہ قادیان کے ہر گھر کے لوگوں نے یہ سمجھا کہ یہ بھلی شاید اُن کے گھرمیں بھی گرمی ہے۔۔۔اس کڑک اور کچھ بادلوں کی وجہ سے تمام لوگ کمروں میں چلے گئے۔جس وقت بجلی کی یہ کڑک ہوئی، اس وقت ہم بھی جو صحن میں سورہے تھے اُٹھ کر اندر چلے گئے۔مجھے آج تک وہ نظارہ یاد ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب اندر کی طرف جانے لگے تو میں نے اپنے دونوں ہاتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سر پر رکھ دیتے کہ اگر بجلی گرے تو مجھ پر گرے ان پر نہ گرے۔بعد میں جب میرے ہوش ٹھکانے آئے تو مجھے اپنی اس حرکت پر ہنسی آئی کہ ان کی وجہ سے به الحكم جوبلی نمبر دسمبر ۱۹۳۵ ص ۶۹