سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 101 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 101

تو نے یہ دن دکھایا محمود پڑھ کے آیا دل دیکھ کر یہ احسان تیری ثنائیں گا یا صد شکر ہے خدایا صد شکر ہے خدایا ہے یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَراني ہے آج ختم قرآن نکلے ہیں دل کے ایٹل تو نے دکھایا یہ دن میں تمسے منہ کے قرباں اور اتارنے اے میرے ریسن کیونکر ہو شکر احساں یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَراني تیرا یہ سب کرم ہے تو رحمت اتم ہے کیونکر ہو حمد تیری کب طاقت قلم ہے تیرا ہوں میں ہمیشہ جب تک کہ دم میں دم ہے یہ روز کر مبارک سُبحَانَ مَن يراني اسے قادر و توانا ؛ آفات سے بچاتا ہم ہم تیرے در پہ آئے ہم نے ہے تجھکو مانا غیروں سے دل غنی ہے جب سے سے تھکو جانا یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَرَانِي اتر کو میرے پیارے اک دم ن دور کرنا بہتر ہے زندگی سے تیرے حضور مرنا نہ واللہ خوشی سے بہتر غم سے تے گذرنا تو بھی یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَرَانِي سب کام تو بنائے لڑکے بھی تجھے ہے یہ سب کچھ تیری طے کرے تو کچھ نہ ہے تو نے ہی میرے جانی خوشیوں کےدن دکھاتے یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَرَانِي یرمین واپس میں مجھ سےہی یہ شمر ہیں وہ میرے بار بریں تیرے غلام در یں تو سچے وعدوں والا منکر کہاں کدھر ہیں بیہ روز کر مبارک سُبحَانَ مَن يراني کر انکو نیک قسمت سے انکو دین دولت کر ان کی خود حفاظت ہو ان پر تیری حمت انکونیک انکو دے رشد اور ہدایت اور عمر اور عزت یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَراني پر