سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 102
اے واحد و یگانہ اے خالق زمانہ کی میری دعائیں سن لے اور عرض چاکرانہ سے تیرے سپرد تینوں دیں کے قمر بنانا یہ روز کر مبارک سُبحان من يراني اقبال کو بڑھانا اب فضل سے کے آتا بر رنج سے بچانا دکھ درد سے چھڑانا ہر خود میرے کام کرنا یا رب نہ آزماتا ! یہ روز کر مبارک سُبحانَ مَنْ يَراني یہ تینوں تیرے چاکر ہو وہیں جہاں کے بیر یہ بادی جہاں ہوں۔یہ جو دیں نور یکیسر یہ مرجع شہاں ہوں یہ ہو دیں مہر انور یہ روز کر مبارک سُبحَانَ مَنْ يَرَانی ابل وقار ہو دیں نہ دیار ہو دیں حق پر نثار ہو دیں مولی کے بارہویں با برگ و بار ہو دیں اک سے ہزارہ ہوویں پیہ روز کر مبارک سبحان من ترانی تو ہے جو پالتا ہے ہر دم سنبھالتا ہے غم سے نکالتا ہے دردوں کو ٹالتا ہے دم کرتا ہے پاک مال کو حق دل میں ڈالتا ہے یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ تَرانی تو نے سکھایا فرقاں جو ہے مدار ایماں جس سے ملے ہے عرفاں اور دور ہو وشیاں یہ سو سے تیرا احساں تجھ پر شار ہو جاں به روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَرَانِي دنیا بھی اک سرا ہے بھڑے گا جو ملا ہے اگر سو برس رہا ہے آخر کو پھر جدا ہے شکوہ کی کچھ نہیں جایہ گھر ہی بے بقا ہے یہ روز کر مبارک سُبحان من يراني اے دوستو پیار و اعتقنے کو مت بسارو کچھ زاد راہ سے لو کچھ کام میں گذار و دنیا ہے جاتے فانی دل ہے سے اتار و یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَرانى لو