سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 100 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 100

پیدا کرنے اور قرآن کریم ناظرہ پڑھنے کے ذریعہ ہوا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایس غرض سے حافظ احمد اللہ ناگپوری کو مقرر فرمایا۔آپ کو قرآن کریم سے جو عشق تھا اس کا کچھ اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ جب صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب نے ناظرہ قرآن کریم پڑھ لیا تو حضرت صاحب نے ایک نہایت شاندار تقریب اس موقع پر منعقد فرمائی اور بطور شکرانہ کے حافظ صاحب کو ڈیڑھ صد روپے کی رقم جو اس زمانہ کے معیار کے لحاظ سے ایک بہت بڑی رقم تھی عطا فرمائی۔اس تقریب میں قادیان کے دوستوں ہی کو مدعو نہیں کیا گیا بلکہ دور دور کے تعلق والوں کو بھی دعوت دی گئی۔گویا باقاعدہ ایک سیشن کا اہتمام تھا۔علاوہ ازیں آپ نے ایک دعائیہ آمین بھی لکھی جو ایک جلسہ میں پڑھ کر سنائی گئی۔اس آمین کا مطالعہ نہایت اہمیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس سے ایک طرف اس عظیم باپ کے پر خلوص جذبات کی تصویر سامنے آجاتی ہے اور دوسری طرف یہ حقیقت بڑی شدت سے محسوس ہونے لگتی ہے کہ آپ اس بچے کی تربیت کے معاملہ میں اصل انحصار اللہ تعالیٰ ہی پر رکھتے تھے اور بھروسہ دعاوں پر تھا نہ کہ ظاہری تدابیریم - اس آمین کے چند اشعار بطور نمونہ پیشیں ہیں :- حمد و ثنا اُسی کو جو ذاتِ جاودانی ہمسر نہیں ہے اس کا کوئی نہ کوئی ثانی باتی و ہی ہمیشہ غیر اسکے سب میں فانی ہوائے غیروں سے دل لگانا، جھوٹی ہے سب کہانی سب غیر میں وہی ہے اک دل کا یار جانی دل میں مرے یہی ہے سُبحان من شیرانی یار ہے تیرا احسان میں تیسے درپہ قربان تو نے دیا ہے ایمان تو ہر ماں نگہاں تیرا کرم ہے ہر آں تو ہے رحیم در حمن یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَرَانِي کیونکر ہو شکر تیرا تیرا ہے جو ہے میرا تو نے ہر اک کرم سے گھر بھر دیا ہے میرا جب تیرا نور آیا جاتا رہا اندھیرا یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَرَانِي