سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 93 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 93

۹۳ لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں اور اس طرف بھی قرآن کریم میں اشارہ موجود ہے کہ عوام الناس جو اصول کو اچھی طرح نہیں سمجھتے بسا اوقات امام کے قریب تر رہنے والوں سے بھی نمونہ پکڑتے ہیں خواہ وہ میرا ہی کیوں نہ ہو لہذا جہاں تک اہل بیت کا تعلق ہے ان پر سیر حال دوهری احتیاط کی ذمہ داری ہے۔اس پہلو سے اس زمانہ میں جب کہ مغربی تہذیب صرف ایک لباس ہی کے ذریعہ ہماری قدیم تمدنی روایات پر حملہ آور نہیں ہو رہی تھی بلکہ اس کے ساتھ بہت سی دیگر اخلاقی خرابیاں بھی سرعت سے ہندوستان میں پھیل رہی تھیں۔انگریزی لباس کو اپنانے کے نتیجے میں ایسے طبقہ کے لئے جس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے، یقیناً یہ خطرہ تھا کہ وہ انگریز کے لباس کے ساتھ دیگر برائیوں میں بھی موت ہو جاتے۔اس خطرہ کی نشاندہی کرم و محترم رسالدار میجر محمد ایوب خان صاب مرحوم نے کھلے لفظوں میں فرماتی ہے اور آپ نے اسے درست تسلیم فرمایا اور آئندہ کے لئے اس لباس کو ترک کرنے کا فیصلہ کر لیا۔میں خاص طور پر اس امر کی وضاحت اس لئے کر رہا ہوں کہ اس واقعہ سے غلط استنباط کرتے ہوئے کوئی اسے شرعی مسئلہ نہ سمجھ بیٹھے جب کہ خود حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے نزدیک اس کی یہ حقیقت نہ تھی۔اس ضمن میں حضرت مرزا محمود احمد صاحب کے بچپن کے ایام کے ذکر سے چند لمحے کی رخصت لیتے ہوئے ایک بہت بعد کا واقعہ بیان کرتا ۱۹۵۵ ہوں جو میرے سامنے گزرا اور بس کے اور بہت سے گواہ بھی موجود ہیں : واقعہ یوں ہے کہ 2002ء میں جب حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد امام جماعت احمدیہ بغرض علاج انگلستان تشریف لے گئے تو حضور کے دوسرے کئی بچوں کی طرح مجھے بھی حضور کی معیت کی سعادت نصیب ہوئی۔وہاں ایک موقعہ پر کھانا کھاتے ہوئے مکرم و محترم چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب سے انگریزی لباس کے مسئلہ پر گفتگو چل پڑی۔محترم چوہدری صاحب چونکہ خود کوٹ نیلون استعمال فرماتے تھے اس لئے چاہتے تھے کہ ایک دفعہ کھل کر حضور اس بارہ میں کوئی فیصلہ صادر فرمائیں۔اس موقع پر حضرت صاحب نے جو موقف اختیار فرمایا وہ وہی تھا میں کا میں ذکر کر آیا ہوں، یعنی یہ لباس خصوصاً اس لئے آپ کو نا پسند تھا کہ یہ ہماری قوم کی غلامانہ ذہنیت کا آئینہ دار تھا۔آخر یہ کیا وجہ ہے کہ انگریزوں نے اپنی حکومت کے زمانہ میں ہمارا لباس نہیں اپنایا بلکہ وہ اپنے لئے اُسے ذلت کا موجب سمجھتے رہے۔ایسی صورت میں آپ کے نزدیک یہ بے غیرتی اور بے قمیتی تھی کہ ان کے لباس کو اختیار کیا جائے۔حضور کا یہ جواب سن کر محترم چوہدری