سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 94
۹۴ صاحب نے گذارش کی کہ اب تو وہ صورت حال باقی نہیں اور کیا انگریز اور کیا امریکن سب مغربی قومیں بکثرت ہمارا لباس اختیار کرنے لگی ہیں لہذا وہ کراہت باقی نہیں رہنی چاہئے۔مکرم چوہدری صاحب نے یہ بھی گزارش کی کہ مرور زمانہ سے اب آہستہ آہستہ یہ انگریزی لباس ایک بین الاقوامی حیثیت اختیار کرچکا ہے اور مشرق بعید کی دوسری آزاد اور باغیرت قومیں بھی اسے اپنا چکی ہیں، نیز ہمارے لباس کی نسبت یہ کچھ سستا بھی پڑتا ہے۔خاص طور پر یورپین ممالک میں شلوار قمیص اور اچکن کو صاف ستھرا رکھنا بھی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔اس پر حضور نے فرمایا کہ ہاں ایسی صورت میں تو کوئی قابل اعتراض بات نہیں رہتی البتہ ٹائی لگانے کے متعلق مجھے یہ تردد ہے کہ کہیں یہ صلیب کی علامت نہ ہو اس لئے بغیر ٹائی کے استعمال کر لیا جائے تو کوئی حرج نہیں۔چوہدری صاحب نے اس کے جواب میں جو گزارش کی وہ یہ تھی کہ ٹائی صلیب کی علامت یقینا نہیں کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو یہودی قوم کبھی بھی اسے نہ اپناتی نیز ناتی در اصل سرد ممالک کے اس رویال کی بدلی ہوئی صورت ہے جو گردن کو سردی سے محفوظ رکھنے کے لئے یہ تو میں استعمال کرتی تھیں بعد ازاں اس کا کام صرف کالر کو بند کرنے کا رہ گیا۔اس استدلال کو قبول کرتے ہوئے حضور نے نہ صرف اس کی اجازت فرمائی بلکہ محترم ڈاکٹر حشمت اللہ خاں صاحب مرحوم کو جو سفر میں حضور کے ہمراہ تھے الطور لطیفہ ایک ٹائی کا تحفہ بھی مرحمت فرمایا۔اصل مضمون کی طرف واپس آتے ہوئے حضرت صاحبزادہ صاحب کے تربیت سے متاثر ہونے اور بخوشی اسے قبول کرنے کا ایک اور واقعہ پیش کیا جاتا ہے۔آپ فرماتے ہیں :- میں نے دیکھا ہے کہ بعض لوگوں کی بچپن میں تربیت کا اب تک مجھ پر اثر ہے اور جب وہ واقعہ یاد آتا ہے تو بے اختیار ان کے لئے دل سے دعا نکلتی ہے۔ایک دفعہ ایک لڑکے کے کندھے پر کسی ٹیک کر کھڑا تھا کہ ماستر قادر بخش صاحب نے جو مولوی عبد الرحیم صاحب در دو کے والد تھے اس سے منع کیا اور کہا کہ یہ بڑی بات ہے۔اس وقت میری عمر بارہ تیرہ سال کی ہوگی۔لیکن وہ نقشہ جب بھی میرے سامنے آتا ہے اُن کے لئے دل سے دُعا نکلتی ہے"۔ہے اس واقعہ سے بھی مزید اس امر پر روشنی پڑتی ہے کہ آپ میں اچھی تربیت قبول کرنے کا کیسا 19×9 ے اخبار الفضل قادیان ار مارچ ۱۹۳۷ )