سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 92
۹۲ پس اُن کی یہ دو نصیحتیں مجھے کبھی نہیں بھول سکتیں اور میں سمجھتا ہوں کہ ایک مخلص متبع کو ایسا ہی ہونا چاہیئے۔اگر ہمارے خاندان کا کوئی نوجوان اپنی ذمہ داری کو نہیں سمجھتا تو صاحبزادہ صاحب ! صاحبزا؟ صاحب کہ کر اس کا دماغ بگاڑنا نہیں چاہیے بلکہ اس سے کہنا چاہیئے کہ آپ ہوتے تو صاحبزادہ ہی تھے مگر اب غلام زادہ سے بھی بدتر معلوم ہو رہے ہیں اس لئے آپ کو چاہیئے کہ اپنی اصلاح کریں لئے اس روایت سے جہاں اور بہت سے سبق ملتے ہیں وہاں یہ دلچسپ حقیقت بھی سامنے آ جاتی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ کے دل میں آپ کا عشق اتنا غالب تھا کہ اس کے مقابل پر کسی دوسری محبت کی پرواہ نہیں کرتے تھے۔یہ درست ہے کہ حضرت پیچ موعود عليه الصلوة والسلام کے صحابہ کو آپ کی اولاد سے بھی بہت پیار تھا اور بکثرت شواہد ملتے ہیں کہ وہ آپ کی اولاد کے ساتھ نہایت پیار اور محبت کا سلوک روا رکھتے تھے لیکن اُن کی یہ محبت کسی کورانہ تقلید کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ اس عرفان کی وجہ سے تھی کہ اس زمانہ میں تمام برکتوں اور اعلیٰ اقدار کا سر چشمہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام ہیں اور خوب جانتے تھے کہ بیٹر کو عليه جڑ اپنی شاخ پر بہر حال فضیلت ہے اور وہ اسی وقت تک اور اسی حد تک پیار کے لائق ہے جس حد تک وہ اس سر چشمہ کے قریب ہو۔یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا اسلام کوئی ظاہری لباس معین کرتا ہے جس کا ترک کرنا کسی انسان کو قابل مواخذہ بنا دے اور کیا فقط شلوار قمیص ہی اسلامی لباس ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس روایت سے یہ نتیجہ اخذ کرنا درست نہیں۔واقعہ یہ ہے کہ انگریز ہند دستان میں ایک حاکم کے طور پہ آیا اور ہندوستانیوں نے اس کے لباس اور عادات اور اطوار کو اس بناء پر قبول نہیں کیا کہ ان میں کوئی فوقیت پائی جاتی تھی بلکہ یہ لعل ایک غلامانہ ذہنیت کے نتیجہ میں شروع ہوئی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ آپ کی اولاد سے اتنی بلند توقعات رکھتے تھے کہ ان کے لئے ایک ادنی سی لغزش بھی برداشت نہیں کر سکتے تھے۔اگر چه اصولاً واجب الاطاعت امام ہی نمونہ ہوتا ہے اور اس کی اولاد سے غلط نمونہ اخذ کرتا نا مناسب اور بے اصول طریق ہے اور قرآن کریم نے اس مسئلہ کو خوب کھول کر بیان فرما دیا ہے له الفضل لاہور ۱۸ فروری ۱۹