سیرت الاَبدال — Page 27
سيرة الابدال ۲۷ اردو تر جمه ولا يـــالــون أتى الــومـى هــم اور یہ بھی پرواہ نہیں کرتے کہ وہ ہیں کون لوگ اور وہ ويحسبون سوطهم كتبت اُن کے تازیانے کونرم ٹہنی کی طرح سمجھتے ہیں اور خوف صيهوج ولا يخافون۔و يعلمون كل ما يعلمون من الود لا نہیں کھاتے۔اور وہ جو علم بھی پاتے ہیں محبت کی وجہ سے پاتے ہیں نہ کہ مشقت سے۔اور انہیں غیب سے پلایا جاتا ہے پس وہ جی بھر کے پیتے ہیں۔اور وہ من الكَةِ، ويُسقون من الغيب غیر اللہ ( تعلقات ) کو تیز نیزے سے کاٹ دیتے ہیں اللہ اور وہ اللہ کی خاطر تنگ راہوں کو اختیار کرتے ہیں فَيَضأَمُون ويقطعون غير بسنانٍ هُدَامٍ وَلِلَّهِ يَرْصمون اور ابلیس کی یہ مجال نہیں کہ وہ انہیں ایسی مشکل میں ڈالے جس سے وہ نکل نہ سکیں۔اور وہ اپنے انوار وما كان لإبليس أن يرطمهم کے ذریعہ سے اُسے دُور ہٹاتے ہیں۔پس جس ويدرء ونــــه بأنوارهم فلا بھرے ہوئے مشکیزہ کو وہ اٹھائے ہوئے ہوتے ہیں شیطان اُس میں سے ذرہ بھر بھی کم نہیں کرسکتا۔ينقص الشيطان من قربة زأبوها اور وہ ( شیطان ) اُن کی اُن کمانوں سے ڈرتا ہے جن ويخاف قسيّهم التي يُضرِّبون۔کو وہ آگ دے کر مضبوط اور درست کرتے ہیں۔وما ترى فيهم هَـذُربَةً يابسةً اور تو اُن میں خشک بسیار گوئی نہیں پائے گا بلکہ تو (اُن بل ترای روحًا ومعرفة ، وحاربوا کے کلام میں ) تروتازگی اور معرفت پائے گا۔أهواء النفس ودشوا، أولئك هم انہوں نے خواہشات نفسانی سے جنگ کی اور خوب جنگ کی۔یہی وہ لوگ ہیں جو دانشمند ہیں اور یہی ہدایت یافتہ ہیں۔سلوک کے برتن میں جو کچھ ہو وہ غٹاغٹ پی جاتے ہیں کیونکہ وہ حضرت احدیت کے خروا أمام الحضرة كالصعلوك حضور ایک فقیر کی طرح گرے ہوئے ہوتے ہیں قوم دهاة وأولئك هم المهتدون۔قعزوا كلّ ما في إناء السلوك بما