سیرت الاَبدال — Page 26
سيرة الابدال ۲۶ اردو تر جمه ويضُرَحُ الله عنهم تهما ان کی شان میں جو جھوٹی تہمتیں منسوب کی جاتی ہیں كاذبة في شانهم و يجعلهم الله تعالیٰ ان سے وہ دور کر دیتا ہے۔اور انہیں ان کے كمنيحة لأحبابهم وإخوانهم۔دوستوں اور بھائیوں کے لئے امانتاً دودھ کے لئے دی ويذهب بهم طخش الناس ہوئی اونٹنی کی طرح بنا دیتا ہے۔اور وہ ان کے ذریعہ وسقام من تفجس وتبعل لوگوں کی بے نوری اور متکبرین اور خناس شیطان کے۔وساوس الخنّاس۔ولا يُعاديهم الا وساوس کی پیروی کرنے والوں کی بیماری دور کرتا ہے۔تافة ولا يقبلهم إلا تقى دافة اور ان سے دشمنی صرف احمق ہی کرتا ہے اور ان کو و حرم دارهم على الفاسقين صرف متقی غریب الطبع ہی قبول کرتا ہے۔اور اُن کا گھر الذين يُزَقَفِلُون إلى الشر فاسقوں پر حرام کر دیا گیا ہے۔وہ (فاسق ) جو بدی کی متعمدين، ويرضون بالغلفق طرف عمد بھاگتے ہیں اور کائی پر راضی ہو جاتے ہیں وينأون عن ماء معين۔اور آب رواں سے دور رہتے ہیں۔ومن علاماتهم أنهم يأخذون اور اُن کی علامات میں سے ایک یہ ہے کہ وہ دنیا من الدنيا كفتيل، ومن الدین سے بہت کم لیتے ہیں جبکہ دین سے بہت زیادہ حاصل يَدْغَفون ويتمتعون من آلائها کرتے ہیں۔وہ دنیاوی نعمتوں سے اسی قدر لیتے ہیں جتنا كَزِبَال و من الثقات يجتر فون کہ چیوٹی اپنے منہ میں اٹھاتی ہے مگر تقویٰ سے خوب حصہ ويقومون أنفسهم كمقَمُجرٍ لیتے ہیں۔وہ اپنے نفسوں کو ایسا سیدھا کرتے ہیں جیسے يقوم سهمه ويجيحون كلّما کمان گراپنے تیر کو سیدھا کرتا ہے۔اور وہ اپنی تمام نفسانی فيهم من أهوائهم ویبقی خواہشات کی بیخ کنی کر دیتے ہیں۔اور صرف رب کی رضا هوى الرّب كجُدُمُور وعليها درخت کے مضبوط تنے کی طرح باقی رہ جاتی ہے اور اس پر يثبتون۔ويؤثرونه فی کل وہ ثابت قدم رہتے ہیں۔اور اُسے ہر راہ میں مقدم رکھتے سبيل ولا يبالون زَمُجَرَةَ السُّفَهَاءِ ہیں۔اور بیوقوفوں کے شور و شعب کی پرواہ نہیں کرتے۔