سیرت الاَبدال — Page 13
سيرة الابدال ۱۳ اردو تر جمه ويدعون كل دائق إلى عينهم ولا اور وہ ہر ایک نادان ہلاک ہونے والے کو اپنے چشمہ يسأمون، فيأتيهم كل من سمع کی طرف بلاتے ہیں اور اُکتاتے نہیں۔پس جو کوئی نداء هم إلا الذين صَمُّوا وذُحِق بھی اُن کی آواز سنتا ہے ان کے پاس آجاتا ہے مگر وہ لسانُهم وجُنَّ جَنَانُهم فهم لا جو بہرے ہیں اور جن کی زبانیں بیمار ہوکر چھل گئی يتوجهون۔وكذالك جرت ہیں اور جن کے دل پر پردہ پڑ گیا ہے وہ متوجہ نہیں عادة الكفرة ما سمعوا نداء ہوتے۔اور کافروں کا یہی معمول رہا ہے کہ وہ مرسلوں کی آواز نہیں سنتے خواہ وہ کیسی ہی درد بھری آواز سے بلائے جائیں ، نہ تو وہ خفیف آواز سے جاگتے ہیں اور نہ سخت آواز سے یہاں تک کہ اُن کو عذاب آلیتا ہے اور وہ شعور نہیں رکھتے۔انبیاء کوشش کرتے ہیں کہ شاید اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے غبار زائل کر دے تا وہ دیکھنے لگیں۔مگر وہ مطلقہ عورت کی طرح بیٹھے رہتے ہیں اور المرسلين و إن كانوا يَصْلِقُون۔ولم يتيقظوا بحسيس ولا بصَهُصَلِقِ حتى أخذهم العذاب وهم لا يشعرون۔و جاهد النبيون لعل الله يزيل صيقتهم ولعلهم يبصرون۔فقعدوا كأمرأةٍ اپنے رب کی نافرمانی کرتے ہیں اور یوں اعراض کرتے طالق وعصوا ربهم وأعرضوا ہیں گویا کہ وہ جانتے نہیں۔اور نا قابل فہم کلام کرنے كأنهم لا يعلمون و طارت والے شخص کی مانند اُن کے ہوش اُڑ جاتے ہیں اور وہ حواسهم كالحكل وكانوا ذوی بد اخلاق اور بدگو ہو جاتے ہیں۔اور وہ نبیوں کو گالیاں حساس و ذوى وَنُشِ وكانوا دیتے ہیں اور عیب جوئی کرتے ہیں ، وہ کھاتے ہیں اور يسبون النبيين وينقرون، ويرتعون سیر نہیں ہوتے۔یقینا وہ لوگ جو ایمان لائے وہ اللہ ويَلْعَصُونَ۔إنّ الذين آمنوا هم فی کی راہ میں مجاہدہ کرتے ہیں۔اور وہ قدموں کے تیز الله يجاهدون، ويلومون الأرجل اُٹھنے کے باوجود انہیں ملامت کرتے ہیں اور یہی مع طهقها ويظنون أنهم متقاعِسُون سمجھتے ہیں کہ ہم پیچھے جارہے ہیں ، اور وہ اللہ کے لئے ويؤثرون الشّدائد لله لعلهم يُقبلون تکالیف برداشت کرتے ہیں تا کہ وہ قبولیت پائیں۔