سیرت الاَبدال

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 12 of 51

سیرت الاَبدال — Page 12

سيرة الابدال يتوكــلــون عــلــى أنفسهم ويُسَبْـحِـلُـون، ولا يعيشون كَسَبَحُلل بـل تـتـوالــي عليهـم الأحزان فهم فيها يذوبون۔تُزَكَّى أنفُسُهم من ربهم اردو تر جمه ويربونهم كما يُزغِلُ الطائر فرخه اور انہیں اس طرح پالتے ہیں جیسے پرندہ اپنے بچے وعليهم يُشفقون، ويحفظونھم کو چوگا دیتا ہے اور وہ ان پر شفقت کرتے ہیں۔اور جو مما لا يرصف بهم ويسمعون باتیں ان کے حق میں مفید اور مناسب حال نہ ہوں اُن بتحنن صرخهم ولا يغفلون سے اُن کی حفاظت کرتے ہیں۔اور ان کی فریاد بڑی وإنهم رعاة في الأرض إذا رأوا دلجوئی سے سنتے ہیں اور بے اعتنائی نہیں کرتے۔وہ سرحانًا فيشَاء هم ينعقون ولا دنیا میں گلہ بانوں کی طرح ہوتے ہیں جب بھیڑیا دیکھتے ہیں تو اپنی بکریوں کو بلا لیتے ہیں۔اور وہ اپنی ذات پر بھروسا نہیں کرتے بلکہ تسبیح وتحمید کرتے ہیں۔اور وہ تن آسانوں کی طرح زندگی بسر نہیں کرتے بلکہ جب اُن پر پے در پے غم آئیں تو وہ گداز ہو جاتے ہیں اور اُن کے رب کی طرف سے ان کے نفوس کا ایسا تزکیہ کیا جاتا ہے کہ نفسانی جذبات ایک ایک کر کے مٹ جاتے ہیں یہاں تک کہ فقط روح باقی رہ جاتی ہے اور الروح فقط ويُفردون، ثم وو منفرد ہو جاتے ہیں۔تب وہ لوگوں کی طرف مبعوث وہ يُرسلون إلى الناس فيدعون کئے جاتے ہیں تو وہ لوگوں کو نیکی اور کامیابی کی طرف الناس إلى الصلاح ويُحَيْعَلُونَ بلاتے ہیں۔یہ ہے مقام ابدال کا جنہوں نے ایسے رستے ذالك مقام أبدال الذين اختاروا اختیار کئے کہ اُن پر چل کر انہیں انجام کا رندامت نہیں سُبُلا لا يعتقبون منه ندامة ولا اٹھانی پڑی اور نہ وہ افسوس کرتے ہیں۔اور وہ ایسی گھاٹیوں يتأسفون۔وجازوا شعابًا لا سے گزرتے ہیں جن میں سے بھاری بھر کم لوگ نہیں يجوزها المثقلون، ولا يموتون گزر سکتے۔اور وہ اس وقت تک وفات نہیں پاتے جب إلَّا بعد أن يُخَلّفوا أزفلة من تک کہ اپنے پیچھے ایسی جماعت نہ چھوڑیں جسے الذين يُرزقون معرفة ويتقون معرفت عطا کی جاتی ہے اور وہ تقویٰ شعار ہوتے ہیں۔فتتسائل جذباتهم حتى يبقى