سیرت الاَبدال — Page 14
سيرة الابدال ۱۴ اردو تر جمه ويحسبهم زَهْدَنُ كزِوَانِ والخلقُ بهم يسلمون۔يبتغون رضا الله في المقبولين۔فيدركهم رحم الله ولا يُبقون فی پس اللہ تعالیٰ کا رحم بھی ان کی دستگیری کرتا ہے اور انہیں أول من العيش وبالفوز يَقْفِلُون تنگ زندگی میں نہیں چھوڑ دیا جا تا بلکہ وہ کامیابی کے ساتھ واپس ہوتے ہیں۔کمینہ تو انہیں گندم میں اُگنے والا نا کارہ پودا خیال کرتا ہے جبکہ مخلوق ان کی وجہ سے ہی محفوظ ہے۔وہ اللہ کی رضا کے متلاشی ہوتے ہیں اور و يصرخون كأمرأةٍ مَاخِضِ فيدخلون وودرو زہ والی عورت کی طرح ( خدا کے حضور ) چلاتے وہ ہیں تب کہیں مقبولوں میں داخل کئے جاتے ہیں۔ومن علاماتهم أن الله يكشف اور ان کی علامات میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ عنهم رُونة الكروب، ويزحن ان سے کرب و اضطراب کی شدت ہٹا دیتا ہے الفزع عن القلوب، ففی کل آن اور گھبراہٹ کو دلوں سے زائل کر دیتا ہے۔پس ہر ایک تتهلل وجوههم ولا يتخوفون، وقت ان کے چہرے چمکتے ہیں اور وہ خوف زدہ نہیں ويُعطون أخلاقا لا يُوجد مثلها فی ہوتے ، اور انہیں ایسے اخلاق دیئے جاتے ہیں جن کی غيرهم وعند الْمُسَاحَنَةِ يُعرفون، نظیر ان کے غیر میں نہیں ملتی۔اور میل ملاقات کے موقع واضعون للزير ولو كان أحد پر وہ پہنچانے جاتے ہیں۔وہ زائرین سے تواضع سے منهم سادن الدير أو وحشیا پیش آتے ہیں خواہ کوئی ان میں سے گرجے کا خادم ہو كالعير وكذالك يفعلون۔یا جنگلی گدھے کی طرح وحشی ہو اور ان کا یہی شعار ہے۔ومن علاماتهم أنهم قوم ما لهم اور ان کی علامات میں سے ایک یہ ہے کہ ان لوگوں عن ربهم حُنتان يستاجزون کو اللہ کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہوتا۔وہ تکیے سے الگ عن الوسادة والآسن عندهم رہتے ہیں اور اللہ کے رستے میں متعفن پانی اُن کے سُبُلِ الله زُلال، يبغون نزدیک آب زلال ہوتا ہے۔وہ رضائے الہی کے طلب گار رضا الله والدنيا في أعينهم ہوتے ہیں اور دنیا ان کی نگاہوں میں (بے وقعت) دَمَال، وطالبها بطال، گوبر ہوتی ہے۔اور اس ( دنیا ) کا طالب نکما ہوتا ہے۔