سیرت الاَبدال

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 11 of 51

سیرت الاَبدال — Page 11

سيرة الابدال اردو تر جمه وإذا دَبَلَتْهُم دُبَيلَةٌ فقاموا و إلى اور جب انہیں کوئی مصیبت آتی ہے تو کھڑے ہو الله يرجعون و ينزحون ما جاتے ہیں اور اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں۔اور جو کچھ اُن کے پاس ہوتا ہے وہ خدا کی خاطر لگا دیتے ہیں اور بخل نہیں کرتے۔اور وہ دنیاوی کنوئیں سے بچتے عندهم الله ولا يبخلون۔يجتنبون دحلة الدنيا ولا يقومون على ہیں، نہ اُس کے کنارے پر کھڑے ہوتے ہیں اور نہ حفرتها ولا يقربون، وإنهم اُس کے قریب جاتے ہیں۔اور بے شک وہ خدا کے ريابيـل اللـه وفـي أجمةِ الغيب شیر ہوتے ہیں اور وہ غیب کی کچھار میں پوشیدہ رکھے يكتمون۔ليس هصور كمثلهم جاتے ہیں۔نہ اُن جیسا کوئی شیر ہوتا ہے نہ باز۔وہ ولا بازي يصولون على العدا دشمنوں پر حملہ کرتے ہیں اور انہیں فنا کر دیتے ہیں۔وہ ويمتشقون۔وإنّهم أغصان شجره قدس كى شاخیں ہوتی ہیں جو انہیں توڑنے کے شجرة القدس فمن هَصَرَهُم لئے جھکائے اللہ تعالیٰ اُس کو توڑ ڈالتا ہے۔اور جو یکسره الله والذين يحصرونهم ان کا محاصرہ کرتے ہیں وہ خود ہی شدید گھٹن میں فهم في غَتِمٍ يَضُجَرون، ولا يؤذيهم إلا من كان أحمق من رجلةٍ وأَخْنَس من حيةٍ فإنّهم قوم بلبلاتے ہیں۔اور انہیں وہی احمق ایذا پہنچاتا ہے جو اُس بوٹی کی طرح ہو جو سیلابی پانی کے کناروں پر اگتی ہے اور پھر پانی اس کو بہا کر لے جاتا ہے یا وہی جو سانپ سے زیادہ خناس ہو۔پس وہ ایسی قوم ہیں جن يُحارب الله لهم ولا تفلح عداهم کے لئے اللہ تعالیٰ خود جنگ کرتا ہے اور اُن کے دشمن وإن يفروا حتى يرتهشوا فإنهم كامياب نہیں ہوتے خواہ وہ سرپٹ دوڑتے ہوئے عارضوا الذي لا تخفى منه اپنے پاؤں زخمی کر لیں کیونکہ انہوں نے اُس ذات المجرمون۔کا مقابلہ کیا جس سے مجرم پوشیدہ نہیں رہ سکتے۔ومن علاماتهم أنهم يُلْقُون اور ان کی علامات میں سے ایک یہ ہے کہ وہ علومهم في قلوب قوم يطلبون طالب حق قوم کے دلوں میں اپنے علوم ڈالتے ہیں۔