سیرت الاَبدال — Page 10
سيرة الابدال اردو تر جمه ولا يُفارقون الحضرة ولو اور وہ حضرت باری سے جدا نہیں ہوتے خواہ انہیں يُخَرُ ذَلُون ولا يكونون كخرقاء قیمہ ہی کیوں نہ کر دیا جائے۔اور نہ ہی وہ شیخی بگھارنے ذات نِيقَةٍ بل يُعطون العلم والے جاہلوں کی طرح ہوتے ہیں بلکہ ان کو علم عطا ہوتا ويُنَوَّرون۔ويُرى الله بريقهم وهم ہے اور انہیں منور کیا جاتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ ان کی چمک لا يُراء ون، وفى الحسنات دکھلاتا ہے اور وہ دکھاوا نہیں کرتے۔اور وہ نیکیوں کو يتوقون، وتراهم كنباتٍ خَضِلِ سنوار سنوار کر ادا کرتے ہیں۔اور تو انہیں سرسبز و شاداب کرادا ولو يكلمون، يشهد لهم الأثرمان دیکھے گا خواہ وہ زخمی کئے جائیں۔دن اور رات ان أنهم من أولياء الرحمن، ولو يحسبهم کے لئے گواہی دیتے ہیں کہ وہ اولیاء الرحمن ہیں خواہ خَطِلٌ أنهم مُلْحِدون، وإذا ضاق احمق انہیں ملحد ہی خیال کریں۔اور جب اُن پر کوئی عليهم أمر فإلى الله يَخْفِلُونَ مشکل آن پڑے تو وہ خدا کی طرف دوڑتے ہیں۔اللہ ولا يتركهم الله کامل بل انہیں گمنام نہیں چھوڑتا بلکہ لوگوں میں ان کو شہرت يُعرفون في الناس و يُبجّلون ولا اور عظمت دی جاتی ہے۔تو انہیں لگڑ بگڑ کی طرح نہیں تراهم گام خنثل بل هم كَبَب دیکھے گا بلکہ وہ خوبصورت بہادر جوان کی طرح نظر عبقري يُشاهدون، ويمشون في آتے ہیں۔وہ زمین پر عاجزی سے چلتے ہیں اور لأَرْضِ هَوْنًا وَلا يُخَنُشِلُونَ بوڑھوں کی طرح لڑکھڑاتے نہیں۔ومن علاماتهم أن خَنْطولة من ان کی علامات میں سے ایک یہ ہے کہ نادانوں کا ایک السفهاء يظنّون فيهم ظن السوء گروہ اُن کی نسبت طرح طرح کی بدگمانیاں کرتا ہے اور اللہ و هم عند الله يُبَرَّءُون، لا کے نزدیک وہ ان الزاموں سے پاک ٹھہرائے جاتے ہیں يعْتَمُون بِدُولُول ولا هم يحزنون ہیں۔وہ مصائب سے نہ غم کھاتے ہیں اور نہ حزین ہوتے وبينهم وبين الأنبياء خئولة ہیں اور ان کے اور انبیاء کے درمیان قریبی تعلق ہوتا ہے۔وہ يشربون مما كانوا يشربون، اُسی روحانی کے سے پیتے ہیں جس سے انبیاء پیا کرتے تھے۔