سیرت الاَبدال

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 9 of 51

سیرت الاَبدال — Page 9

سيرة الابدال ۹ اردو تر جمه ومـن عــلامـاتهـم أنّهم يعرفون ان کی علامات میں سے ایک یہ ہے کہ وہ کذاب الرهدون، والمنافق البهصل اور عریاں منافق کو جوگرگٹ کے مشابہ ہو خوب الذي يُضاهي الحِرُذُون، پہچانتے ہیں۔اور تو انہیں ہر معاملہ میں صائب الرائے وتجدهم كغيذان في كل ما اور شیر کی طرح دلیر پائے گا مگر وہ درندگی کا مظاہرہ يزكنون، وكمثل هصور بيد أنهم نہیں کرتے۔اور تو ان کے دلوں کو غنی پائے گا پھر بھی لا يفترسون، وتجد قلوبهم أغنياء وہ عاجزی اختیار کرتے ہیں۔وہ اللہ کے رستے میں ثم يتمسكنون، ويُرْقِلُون فی سُبُل تیز رو ہوتے ہیں ایڑ لگانے کے محتاج نہیں ہوتے۔(۵) الله ولا يُرْكَلُون، وترى دموعهم تو دیکھے گا کہ اُن کے آنسو مسلسل بہتے ہیں اور تھمتے مُرْمَغِلَّةٌ لا تَرْقَأُ و لا يميلون إلى نہیں۔اور وہ آرام طلبی کی طرف مائل نہیں ہوتے اور أون ولا يَتَبَخْترون۔نہ ہی وہ اترا کر چلتے ہیں۔و من علاماتهم أن القدر يمشى اور ان کی علامات میں سے ایک یہ ہے کہ تقدیران إليهم على قدم المخاتلة کی طرف دبے پاؤں آتی ہے۔اور جب کسی بلا ويُنبِّئُهُم الله بقدره إذا قُدرَ عليهم كا نزول اُن پر مقدر ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس تقدیر کے کا نزول البلية، و يختعل إليهم نزول سے پہلے ہی انہیں آگاہ فرما دیتا ہے۔اور موت الموت ولا يأتـي كالحوادث ان کی طرف دیر سے آتی ہے۔اچانک آنے والے المفاجئة، كأن الله يعاف ان حادثات کی طرح نہیں آتی۔گویا اللہ تعالیٰ اُن کو وفات يهلكهم ويتردّد عند قبض دینے سے ہچکچاتا ہے۔اور ان کے نفوس مطمئنہ کو قبض نفوسهم المطمئنة۔کرنے میں متردد ہوتا ہے۔ومن علاماتهم أنهم يُنصَرُون اور اُن کی علامات میں سے ایک یہ ہے کہ اُن کو نصرت ولا يُخذَلُون، ولا يحجز هوًى حاصل ہوتی ہے اور وہ بے کس نہیں چھوڑ دیئے جاتے۔اور کوئی خواہش اُن کے اور اُن کے رب کے درمیان حائل بينهم وبين ربهم ولا يُتركُون نہیں ہوتی اور وہ (بے یارو مددگار ) نہیں چھوڑے جاتے۔