سیکھوانی برادران

by Other Authors

Page 7 of 20

سیکھوانی برادران — Page 7

11 10 حضرت میاں جمال الدین صاحب سیکھوانی ابتدائی تعارف و بیعت رجسٹر بیعت اولیٰ کے مطابق آپ کے کوائف حسب ذیل ہیں:۔نمبر شمار: 149 تاریخ عیسوی 23 نومبر 1889ء بروز جمعہ نام مع ولدیت میاں جمال الدین ولد محمد صدیق قوم وائیں عرف کشمیری موضع سیکھو ان ضلع و تحصیل گورداسپور بقلم خود۔یکے از احباب تین صد تیرہ انہوں نے سوال کیا کہ حضور ہمارے نام بھی درج کئے گئے ہیں تو حضور علیہ السلام نے فرمایا تم سب بھائیوں کے نام فہرست میں درج کئے گئے ہیں۔جب ہمارے بھائی نے واپس جا کر یہ بات ہم کو سنائی تو ہماری خوشی کی کوئی حد نہ رہی۔اور خدا تعالیٰ کی غریب نوازی کا شکر یہ ادا کیا۔الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِکَ۔پچاس روپے (رجسٹر روایات جلد نمبر (13) حضرت اقدس نے آپ کی مخلصانہ مالی قربانی اور خدمت کا بھی تذکرہ فرمایا۔آپ نے ضمیمہ اشتہار الانصار ۱۴ را کتوبر ۱۸۹۹ء میں فرمایا: ”میاں جمال الدین کشمیری ساکن سیکھواں ضلع گورداسپور اور ان کے دو برادران (رجسٹر بیعت اولی ، اندراج نمبر 149 ،موجود خلافت لائبریری ربوہ ) حقیقی میاں امام الدین اور میاں خیر دین نے پچاس روپے دیئے۔ان چاروں بھائیوں (چوتھے حضرت منشی عبدالعزیز صاحب پٹواری ساکن اوجالہ ضلع گورداسپور کا ذکر ابتداء میں فرمایا۔ناقل ) کے چندوں کا معاملہ نہایت عجیب اور قابل رشک ہے کہ وہ دنیا کے مال سے نہایت ہی کم حصہ رکھتے ہیں گویا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرح جو کچھ گھروں میں تھا وہ آپ کو یہ سعادت بھی حاصل ہے کہ حضرت اقدس نے آپ کو اپنے 313 ( رفقاء) کی فہرست میں شامل فرمایا۔سب لے آئے ہیں اور آخرت پر مقدم کیا جیسا کہ بیعت میں شرط تھی“ حضرت میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی فہرست ضمیمہ انجام آتھم کے بارہ میں بیان جولائی ۱۹۰۰ء میں ان بھائیوں اور ان کے والد محمد صدیق صاحب چاروں کی طرف کرتے ہیں: سے ایک سوروپیہ منظور فرما کر فہرست برائے چند تعمیر منارۃ اُسیح میں ان کے نام نمبر ۸۴ پر جب بموجب حدیث تین صد تیرہ ( رفقاء) کی فہرست تیار کرنے کا ارادہ فرمایا تو درج فرمائے۔بہت سے مخلصین نے اپنے اور اپنی اولاد کے نام پیش کئے۔ہم سب بھائی خاموش رہے۔اس لئے نہیں کہ ہم کو پرواہ نہ تھی بلکہ اس لئے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے فضل کیا تو ہمارے نام درج وقد تصيبين 1899ء ہو جائیں گے۔آخر جس دن فہرست تیار ہو کر طبع ہو رہی تھی یا قریباً مکمل ہو چکی تھی تو ہمارے جن دنوں میں حضرت اقدس علیہ السلام اپنی کتاب ” مسیح ہندوستان میں تالیف کر بھائی جمال الدین صاحب قادیان آئے اور حضور علیہ السلام کی مجلس میں یہ ذکر ہورہا تھا۔رہے تھے انہیں ایام میں آپ کو معلوم ہوا کہ حضرت مسیح ناصرٹی کو فتنہ صلیب کے وقت نصیبین