سیکھوانی برادران — Page 8
13 12 (عراق) کے بادشاہ نے اپنے پاس بلایا تھا اور آپ کے سفر کے آثار موجود ہیں۔حضرت لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ - احباب جنازہ غائب پڑھیں اور دعائے مغفرت کریں۔آپ کا مسیح موعود علیہ السلام وفات مسیح کے ثبوت کے لئے ہر وقت کوشاں رہتے تھے چنانچہ آپ وصال 14 اگست 1922 ء کو ہوا۔نے نصیبین سے ثبوت ملنے کی امید سے ایک وفد بھیجنے کا ارادہ فرمایا۔اس مقصد کے لیے حضور علیہ السلام حضرت مرزا خدا بخش صاحب کو منتخب کر چکے تھے حضرت میاں جمال الدین صاحب بعد ازاں 10 اکتوبر 1899ء کو قرعہ اندازی کے ذریعہ باقی دو احباب حضرت مولوی قطب الدین صاحب اور حضرت جمال الدین سیکھوانی صاحب کا انتخاب عمل میں آیا۔مگر افسوس کہ بعض پیش آمدہ امور ضروریہ کی وجہ سے اس وفد کا بھیجا ملتوی ہو گیا۔خدمات عالیہ حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس بیان کرتے ہیں: الفضل قادیان 17 /اگست 1922 ص1) حضرت مولانا جلال الدین شمس حضرت میاں جمال الدین صاحب کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: آپ سلسلہ کے ساتھ سچا اخلاص رکھتے تھے۔آپ کو علم طب میں خاصی مہارت تھی اور قرآن و حدیث سے اچھی طرح واقف تھے۔آپ خدا کے فضل سے ذہین و فہیم تھے۔ایک دفعہ کا ذکر ہے ہم اپنے گاؤں سیکھواں کی ( بیت ) میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔دوران بہت سے ایسے صاحب علم دوست تھے جو غیر احمدی مولویوں کو مذہبی گفتگو میں گفتگو میں میرے والد (حضرت امام الدین ) صاحب نے فرمایا: اب میری نظر میں کمی آگئی ہے۔آپ ( یعنی حضرت میاں جمال الدین صاحب ) فرمانے لگے میری نظر میں ذرا ساکت کر دیتے تھے۔البتہ وہ مولوی کے لقب سے ملقب نہ تھے۔ان میں مثال کے طور پر میرے تایا اور والد اور چامیاں جمال الدین ، میاں امام الدین اور میاں خیر الدین تھے جن کمی نہیں آئی اور اس کی وجہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کپڑوں کی برکت ہے۔کے مولویوں سے متعدد مباحثے ہوئے اور ان کے ذریعے سینکڑوں سعید روحیں احمدیت کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا الہام ہے ”بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت آغوش میں داخل ہوئیں۔“ ڈھونڈیں گے۔اس پر میرے دل میں ہمیشہ خیال رہتا تھا کہ جب بادشاہ برکت حاصل کریں گے تو ہم کیوں نہ کریں۔اس لئے جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام (بیت صداقت مسیح موعود تقریر جلسہ سالانہ 1964 ءباراوّل، ربوہ،1965ءص 160) الذکر ) سے اندر تشریف لے جانے لگتے تو میں آپ کی دستار مبارک کا شملہ اپنی آنکھوں پر وفات حضرت مولوی جمال الدین صاحب آپ کی وفات پر الفضل نے لکھا۔مولوی جمال الدین صاحب سیکھواں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پھیر لیا کرتا تھا۔اسی کی برکت ہے کہ میری نظر میں کمی نہیں آئی۔آپ پر بہت سے مصائب اور تکالیف بھی آئیں۔اپنی وفات سے قریباً ایک مہینہ پہلے آپ ایک گھوڑی سے گر پڑے اور سر میں چوٹ پرانے ( رفقاء) میں سے اور مخلص احمدی تھے چند دن کی علالت کے بعد فوت ہو گئے۔انا آئی۔علاج کرتے رہے مگر چوٹ نے دماغ میں اثر کیا۔پھر آپ بول نہ سکتے تھے۔ساتھ