سیکھوانی برادران — Page 6
9 8 الله آنحضرت علﷺ کے صحابہ نے اس بارہ میں بہت عمدہ نمونے پیش فرمائے اور سیکھوانی لکھتے ہیں کہ ”ہم نے حضور کے پاس عرض کی کہ ہم تینوں بھائی مع والد یک آنحضور ﷺ کے غلام صادق کے رفقاء نے بھی اس سلسلہ میں کوئی کمی نہیں رہنے صدر و پیل کر ادا کر سکتے ہیں اگر حضور منظور فرماویں۔تو حضور نے منظور فرمایا۔وہ روپیہ دی۔سیکھوانی برادران کوئی امیر نہ تھے لیکن دل کے ضرور امیر تھے اور اس کوشش میں رہتے ادا کر دیا گیا تھا۔“ تھے کہ حضرت مسیح پاک علیہ السلام کی ہر تحریک پر لبیک کہنے والوں میں شامل ہوں۔دوسری (رجسٹر روایات نمبر 7 صفحہ 426-427) اس طرح اس سیکھوانی خاندان کو منارہ اسی قادیان کی تعمیر کے سلسلہ میں تاریخی طرف حضور علیہ السلام نے بھی ان کے جذبہ قربانی کو قبولیت کا شرف بخشتے ہوئے اپنی سعادت حاصل ہوئی۔چنانچہ منارہ اسیح پر یہ نام یوں درج ہیں: تحریرات میں مختلف جگہوں پر ان کا ذکر خیر کرتے ہوئے ہمیشہ کے لئے ان کے لئے دعاؤں کی تحریک فرما دی ہے۔ان میں سے چند کا ذکر ذیل میں کرتا ہوں۔ضمیمہ انجام آتھم میں حضور علیہ السلام نے اپنے پر ہونیوالے خدا تعالیٰ کے فضلوں نمبر شمار : 64 میاں محمد صدیق سیکھواں نمبر شمار 65 میاں امام الدین سیکھواں نمبر شمار 66 میاں جمال الدین سیکھواں نمبر شمار: 67 میاں خیر الدین سیکھواں اور انعامات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ” خدا نے ایسے مخلص اور جان فشاں ارادتمند ہماری خدمت میں لگا دئے کہ جو اپنے مال کو اس راہ میں خرچ کرنا اپنی سعادت دیکھتے قابل رشک نمونه ہیں۔۔۔۔میں اپنی جماعت کے محبت اور اخلاص پر تعجب کرتا ہوں کہ ان میں سے نہایت ہی کم معاش والے جیسے میاں جمال الدین اور خیر الدین اور امام الدین کشمیری میرے گاؤں خدمات کا تذکرہ یوں فرمایا ہے: سے قریب رہنے والے ہیں۔وہ تینوں غریب بھائی بھی جو شاید تین آنہ یا چار آنہ روزانہ 66 حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک جگہ اپنے خدام کی مخلصانہ مالی قربانیوں اور ”میاں جمال الدین کشمیری ساکن سیکھواں ضلع گورداسپورہ اور ان کے دو برادر حقیقی میاں امام الدین اور میاں خیر الدین نے پچاس روپیہ دئے ہیں۔ان چاروں صاحبوں (ضمیمہ انجام آتھم۔روحانی خزائن جلد نمبر 11 صفحہ 312-313) چوتھے حضرت منشی عبد العزیز صاحب پٹواری ساکن او جله ضلع گورداسپور کا ذکر ابتداء میں فرمایا۔یہ مزدوری کرتے ہیں، سرگرمی سے ماہواری چندہ میں شریک ہیں۔“ تعمیر مار اسی میں حصہ سیکھوانی برادران کے بہت قریبی دوست تھے۔ناقل ) کے چندہ کا معاملہ نہایت عجیب اور قابل رشک ہے کہ وہ دنیا کے مال سے نہایت ہی کم حصہ رکھتے ہیں گویا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ جب منارة المسیح کی بنیاد رکھی گئی تو اسکے بعد کچھ کام ہونے کے بعد تعمیر رک گئی کی طرح جو کچھ گھروں میں تھا وہ سب لے آئے ہیں اور دین کو آخرت پر مقدم کیا جیسا کہ 66 تھی۔حضور علیہ السلام نے چندہ کی تحریک فرمائی کہ سو آدمی ایک ایک سو روپیہ دیں اور ان بیعت میں شرط تھی۔“ کے نام دعا کی خاطر منارہ پر لکھے بھی جائیں گے۔میرے دادا میاں امام الدین صاحب ( جلسة الوداع - ضمیمہ اشتہار " الانصار 14اکتوبر 1899 ء۔بحوالہ مجموعہ اشتہارات جلد سوم صفحہ 167)