سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 72 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 72

پڑھنا نہیں جانتا۔تب خدا نے آپ کے سینہ میں تمام روحانی علوم بھر دے۔اور آپ کے دل کو روشن کیا تھا“ (پیغام صلح۔روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 466،465) فرمایا۔آنحضرت ملا ل و ل کو ہر گز خواہش نہ تھی کہ لوگ آپ کو پیغمبر کہیں اور آپ کی اطاعت کریں اور اسی لیے ایک غار میں جو قبر سے زیادہ تنگ تھی جا کر آپ عبادت کیا کرتے تھے اور آپ کا ہر گزارادہ نہ تھا کہ اس سے باہر آویں آخر خدا نے اپنی مصلحت سے آپ کو خود باہر نکالا اور آپ کے ذریعے سے دنیا پر اپنے نور کو ظاہر کیا“ ( ملفوظات [ 2003 ایڈیشن] جلد 3 صفحہ 619) کتب حدیث و تاریخ وسیرت میں نزول وحی کی ابتدا کے متعلق بڑی تفصیلات بیان کی کئی ہیں۔پچھلے صفحات میں بخاری کی ایک لمبی روایت درج کی گئی ہے جو حضور کے مندرجہ بالا ارشادات کی تائید کرتی ہے۔خشيت على نفسی کی حقیقت: نزول وحی کی ابتدا کے وقت آنحضور صلی علی کم پر ایک خوف کی کیفیت طاری تھی جسکا اظہار خشیت علی نفسی (یعنی مجھے اپنے نفس کے بارے خوف لاحق ہوا) کے الفاظ سے اور ما انا بقاری کہ میں پڑھنا نہیں جانتا اور اسی طرح زملونی ملونی سے اس خوف کا اظہار ہوا۔اس خوف کی ایک وجہ تو صاف ظاہر ہے کہ جب حکم ماموریت ہوا تو آپ صلی الی نام کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ میں تو امی ہوں پھر کس طرح اس کلام کی تبلیغ کا فریضہ انجام دے سکوں گا۔آپ صلی ظم کو اس منصب کی ذمہ داری کا مکمل عرفان حاصل ہو چکا تھا جس کی وجہ سے دل میں عجز کی وجہ سے خوف پیدا ہوا۔اس بات کا اظہار آپ نے ان الفاظ میں فرمایا ہے۔اس حکم کے سننے سے آپ ڈرے کہ میں ایک اُتی یعنی ناخواندہ آدمی ہوں۔اور عرض کیا کہ میں پڑھنا نہیں جانتا“ (پیغام صلح روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 466،465) حضور نے خشیت علی نفسی کے متعلق ایک نہایت اہم نکتہ بیان فرمایا ہے جو آنحضور صلی اللہ نام کی ارفع شان کا بھی اظہار ہے اور تمام انسانوں کے لئے بھی رہنمائی ہے۔آپ فرماتے ہیں۔72