سیرة النبی ﷺ — Page 71
method of escaping from the heat of Mecca in an unpleasant season for those who could not afford to go to at-Taif۔(3) وو آپ کے ارشاد سے اس قسم کے اعتراضات کی بھی تردید ہو جاتی کہ جیسا کہ فرمایا کہ ” یہ غار اس قدر خوفناک تھی کہ کوئی اس میں جانے کی جرات نہ کر سکتا تھا ( ملفوظات [ 2003 ایڈیشن] جلد 4 صفحہ 34 ) پس ایسی خطر ناک اور اور تنگ و تاریک غار میں کوئی کیونکر گرمیوں کے موسم میں جاکر ٹھنڈک حاصل کرنے کے لئے بیٹھ سکتا ہے گرم موسم میں تو ایسی جگہ مزید گرم ہوتی ہے اور ہزار کیڑے مکوڑے اس میں پیدا ہو جاتے ہیں۔عرب کے تاریخی حالات کا مطالعہ کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عرب میں بعض سر سبز و شاداب علاقے بھی موجود تھے مثلاً یمن حجر طائف وغیرہ۔اور یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ امیر لوگ وہاں گرمیوں کے موسم میں جا کر رہا کرتے تھے (4) نیز منٹگمری واٹ کا یہ خیال بھی درست نہیں کہ محمد صلی الی یکی عرب کے امیر لوگوں کی طرح سر سبز و شاداب علاقہ میں جا کر رہنے کی استطاعت نہ رکھتے تھے۔سیرت النبی صلی علیکم کے مطالعہ سے یہ بات نہایت واضح ہے کہ حضرت خدیجہ سے شادی کے بعد آپ صلی المیہ نیم کے پاس اتنے وسائل موجود تھے کہ کہ آپ صلی الم عرب کے کسی بھی ٹھنڈے سرسبز و شاداب علاقہ میں جاکر سکونت اختیار کر سکتے تھے۔لیکن دنیا کے ان آراموں سے آپ کو کوئی غرض نہ تھی۔اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات سے واضح ہے کہ آپ ان گرمیوں میں تنہا غارِ حرا میں جاکر اللہ تعالیٰ کی عبادت کیا کرتے تھے “۔عباتگزاروں کا ہمیشہ یہ طریق رہا ہے کہ ان میں سے بعض عبادت کے لئے تنہائی کی جگہوں کو پسند کر کے رہا کرتے تھے۔عرب کے متعبدین غاروں میں چھپ کر عبادت کیا کرتے تھے (5) اور آنحضور صلی للہ ہم تو تمام عابدوں سے بڑھ کر عابد تھے اور یہی حرا کی عبادتیں تھیں جس نے بالآخر دنیا کو منور کر دیا۔نزول وحی سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں: ایک دن اسی غار میں آپ پوشیدہ طور پر عبادت کر رہے تھے۔تب خدا تعالیٰ آپ پر ظاہر ہوا۔اور آپ کو حکم ہوا کہ دنیا نے خدا کی راہ کو چھوڑ دیا ہے اور زمین گنہ سے آلودہ ہو گئی ہے۔اس لئے میں تجھے اپنا رسول بنا کر بھیجتا ہوں۔اب تو اور لوگوں کو متنبہ کر کہ وہ عذاب سے پہلے خدا کی طرف رجوع کریں۔اس حکم کے سننے سے آپ ڈرے کہ میں ایک اقی یعنی ناخواندہ آدمی ہوں۔اور عرض کیا کہ میں 71