سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 21
36 سیرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آٹھ ہزار تک ترقی کر جاتی تھی۔غرض یہ لیکچر ایک عظیم الشان فتح تھی جو آپ کو حاصل ہوئی اور اس دن آپ کا سکہ آپ کے مخالفوں کے دلوں میں اور بھی بیٹھ گیا اور خود مخالف اخبارات نے اس بات کو تسلیم کیا کہ آپ کا مضمون اس کا نفرنس میں بالا رہا۔یہ مضمون وہی سیرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام حسین کا می رومی سفیر کا قادیان میں آنا 37 مئی 1897ء میں ایک عظیم الشان واقعہ کا آغاز ہوا جو تاریخ میں ایک نشان کے طور پر ہے جس کا انگریزی ترجمہ ٹیچنگز آف اسلام یورپ اور امریکہ میں خاص طور پر قبولیت رہے گا۔حسین کا می سفیر روم اپنی متعدد درخواستوں کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی حاصل کر چکا ہے۔خدمت میں قادیان حاضر ہوا۔حضرت نے اپنی خدا داد فراست اور الہامی اطلاع پر اُسے 1897ء کے آغاز کے ساتھ عیسائی دنیا پر اتمام حجت کے لیے ایک اور طریق پیش کیا اشارہ اُس کی اپنی حالت اور ٹرکی پر آنے والے مصائب سے اطلاع دی کیونکہ سفیر مذکور اور حضرت مسیح علیہ السلام کی حقیقی شخصیت کے ثابت کرنے کے لیے عیسائیوں کے غلط عقائد نے سلطنت روم کی نسبت ایک خاص دعا کی تحریک کی تھی جس پر آپ نے اس کو صاف فرما دیا کہ سلطان کی سلطنت کی حالت اچھی نہیں ہے اور میں کشفی طریق سے اس کے ارکان کی کی اصلاح کی خاطر چہل روزہ دعوت مقابلہ کا اعلان کیا۔اگر چہ اس مقابلہ میں دوسرے حالت اچھی نہیں دیکھتا اور میرے نزدیک ان حالتوں کے ساتھ انجام اچھا نہیں۔اہل مذاہب بھی شامل تھے مگر عیسائی بالخصوص مخاطب تھے۔اس کے ساتھ ایک ہزار روپیہ کا انعام بھی اُس شخص کے لیے مقرر تھا جو یسوع کی پیشگوئیوں کو حضرت مسیح موعود کی پیشگوئیوں کا ایک خط چھپوایا جس سے مسلمانانِ ہند و پنجاب میں شور مچ گیا مگر بعد میں آنے والے اور نشانوں سے قوی تر دکھا سکے مگر کسی کو جرات اور حوصلہ نہ ہوا۔ان باتوں سے سفیر مذکور ناراض ہو کر چلا گیا اور لاہور کے ایک اخبار میں گندی گالیوں واقعات نے اس حقیقت کو کھول دیا اس کے ضمن میں بہت سی پیشگوئیاں پوری ہو گئیں۔خود و سفیر مذکور حضرت کے مشہور الہام إِنِّي مُهِينٌ مَّنْ اَرَادَ اهَانَتَگ کا نشانہ بنا کیونکہ وہ ایک سنگین الزام میں ماخوذ ہو کر سزا یاب ہوا اور جس اخبار نے نہایت زور سے اس مضمون کی واقعہ قتل لیکھرام 1897ء میں لیکھرام نامی ایک آریہ 16 مارچ کو آپ کی ایک پیشگوئی کے مطابق مارا تائید کی تھی اور اسے چھا پا تھا وہ بھی سزا سے نہ بچا اور سلطنت ٹرکی کی جو حالت ہے وہ ہر شخص گیا اور اس پر آریوں میں سخت شور برپا ہوا اور بعض شریروں نے طرح طرح سے احمدیوں کو پر عیاں ہے۔اور پھر اُن کے ساتھ دوسرے مسلمانوں کو بھی دکھ دینا شروع کیا اور حضرت مسیح موعود کے خلاف تو سخت ہی شور برپا ہوا اور کھلے لفظوں میں آپ پر قتل کا الزام لگایا گیا اور فورا آپ کی تلاشی لی گئی کہ شاید کوئی سراغ قتل کا مل جاوے لیکن اللہ تعالیٰ نے دشمن کو ہر طرح ناکام مقدمہ ڈاکٹر مارٹن کلارک اسی سن کی یکم اگست کو آپ کے خلاف ڈاکٹر مارٹن کلارک نام ایک مسیحی پادری نے رکھا اور باوجود اس کے کہ ہر طرح آپ پر الزام لگانے کی کوشش کی گئی لیکن پھر بھی کامیابی نہ مقدمہ سازش قتل مسٹر اے۔ای مارٹینو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ امرتسر کی عدالت میں دائر کیا اور ہوئی اور آپ اس الزام سے بالکل پاک ثابت ہوئے۔بیان کیا کہ مرزا صاحب نے عبدالحمید نام ایک شخص کو میرے قتل کرنے کے لیے بھیجا تھا۔