سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 20
34 سیرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سیرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 35 اجلاس کا نفرنس 26-27-28 دسمبر 1896ء کو مقرر تھے۔جلسہ کے انتظام کے لیے کیونکہ آپ کے مضمون کا ابھی پہلا سوال ہی ختم نہ ہوا تھا اور اُس وقت لوگوں کی خوشی کی کوئی چھ ماڈریٹر صاحبان مقرر تھے جن کے اسماء گرامی مندرجہ ذیل ہیں:۔-1 رائے بہادر پر تول چند ر صاحب حج چیف کورٹ پنجاب 2 خان بہادر شیخ خدا بخش صاحب حج سمال کا زکورٹ لاہور 3۔رائے بہا در پنڈت رادھا کشن کول پلیڈر چیف کورٹ سابق گورنر جنرل جموں 4۔حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب طبیب شاہی 5۔رائے بہادر بھوانی داس ایم۔اے سیٹلمنٹ آفیسر جہلم 6۔سردار جواہر سنگھ صاحب سیکرٹری خالصہ کالج کمیٹی لاہور انتہا نہ رہی جب کہ مولوی مبارک علی صاحب سیالکوٹی نے ، جن کا لیکچر آپ کے بعد تھا اعلان کیا کہ آپ کے مضمون کا وقت بھی حضرت صاحب کو ہی دیا جائے۔چنانچہ مولوی عبدالکریم صاحب آپ کا لیکچر پڑھتے چلے گئے حتی کہ ساڑھے چار بج گئے جب کہ جلسہ کا وقت ختم ہونا تھا لیکن اب بھی پہلا سوال ختم نہ ہوا تھا اور لوگ مُصر تھے کہ اس لیکچر کو ختم کیا جائے۔چنانچہ منتظمین جلسہ نے اعلان کیا کہ بلا لحاظ وقت کے یہ مضمون جاری رہے جس پر ساڑھے پانچ بجے تک سنایا گیا تب جا کر پہلا سوال ختم ہوا۔مضمون کے ختم ہوتے ہی لوگوں نے اصرار کیا کہ اس مضمون کے ختم کرنے کے لیے جلسہ کا ایک دن اور بڑھایا جائے چنانچہ 28 / تاریخ اس کانفرنس کے لیے مختلف مذاہب کے مشہور علماء نے مضامین تیار کیے تھے اس لیے کے پروگرام کے علاوہ 29 تاریخ کو بھی جلسہ کا انتظام کیا گیا اور اُس روز چونکہ بعض اور لوگوں میں اس کے متعلق بڑی دلچسپی تھی اور بہت شوق سے حصہ لیتے تھے اور یہ جلسہ ایک مذاہب کے قائم مقاموں نے بھی وقت کی درخواست کی تھی اس لیے کارروائی جلسہ صبح کو مذہبی دنگل کا رنگ اختیار کر گیا تھا اور ہر مذہب کے پیر واپنے اپنے قائم مقاموں کی فتح بجائے ساڑھے دس بجے کے ساڑھے نو بجے سے شروع ہونے کا اعلان کیا گیا اور سب سے دیکھنے کے خواہشمند تھے۔اس صورت میں تمام پرانے مذاہب جن کے پیر وکثرت سے پیدا پہلے آپ ہی کا مضمون رکھا گیا اور گو پہلے دنوں میں لوگ ساڑھے دس بجے بھی پوری طرح نہ ہو چکے ہیں بالکل محفوظ تھے کیونکہ اُن کی داد دینے والے لوگ جلسہ گاہ میں کثرت سے پائے آتے تھے لیکن آپ کے پہلے دن کے لیکچر کا یہ اثر تھا کہ ابھی نو بھی نہ بجے تھے کہ ہر مذہب جاتے تھے لیکن مرزا صاحب کا مضمون ایک ایسے جلسے میں سنایا جانا تھا جس میں دوست وملت کے لوگ جوق در جوق جلسہ گاہ میں جمع ہونے شروع ہو گئے اور عین وقت پر جلسہ برائے نام تھے اور سب دشمن ہی دشمن تھے کیونکہ اُس وقت تک آپ کی جماعت دو تین سو شروع کیا گیا۔اُس دن بھی گو آپ کے مضمون کے لیے اڑھائی گھنٹے دیے گئے تھے لیکن سے زیادہ نہ تھی اور اُس جلسہ میں تو شاید پچاس سے زائد آدمی بھی شامل نہ ہوں گے۔تقریر کے اس عرصہ میں ختم نہ ہو سکنے کی وجہ سے منتظمین کو وقت اور دینا پڑا کیونکہ تمام آپ کی تقریر 27 دسمبر کو ڈیڑھ بجے سے ساڑھے تین بجے تک تھی۔آپ خود تو وہاں حاضرین یک زبان ہو کر اس تقریر کے جاری رکھنے پر مصر تھے چنانچہ ماڈریٹر صاحبان کو نہ جاسکے تھے لیکن آپ نے اپنے ایک مخلص مرید مولوی عبدالکریم صاحب کو اپنی طرف سے وقت بڑھانا پڑا۔غرض دو روز کے قریباً ساڑھے سات گھنٹوں میں جا کر یہ تقریر ختم ہوئی اور مضمون پڑھنے پر مقرر کیا تھا۔جب انہوں نے تقریر شروع کی تو تھوڑی ہی دیر میں ایسا عالم تمام لاہور میں ایک شور پڑ گیا اور سب لوگوں نے تسلیم کیا کہ مرزا صاحب کا مضمون بالا رہا ہو گیا کہ گو یا لوگ بُت بنے بیٹھے ہیں اور وقت کے ختم ہونے تک لوگوں کو معلوم ہی نہ ہوا کہ اور ہر مذہب و ملت کے پیر و اس کی خوبی کے قائل ہوئے۔جلسہ کی رپورٹ مرتب کرنے کس قدر عرصہ تک آپ بولتے رہے ہیں۔وقت ختم ہونے پر لوگوں کو سخت تشویش ہوئی والوں کا اندازہ ہے کہ آپ کے لیکچروں کے وقت حاضرین کی تعداد بڑھتے بڑھتے سات