سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 22
38 سیرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اول تو ڈپٹی کمشنر صاحب بہادر نے آپ کے نام وارنٹ گرفتاری جاری کیا لیکن بعد میں اُن کو معلوم ہوا کہ بوجہ غیر ضلع ہونے کے یہ بات اُن کے اختیار سے باہر ہے۔پس مقدمہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ صاحب بہا در ضلع گورداسپور کی عدالت میں منتقل کیا جن کا نام ایم۔ڈبلیو ڈگلس ہے اور جو اس وقت جزائر انڈیمان کی چیف کمشنری سے پنشن یاب ہو کر ولایت میں ہیں۔آپ کے سامنے بھی عبدالحمید نے یہی بیان کیا کہ مجھے مرزا صاحب نے مارٹن کلارک صاحب کے قتل کے لیے بھیجا تھا اور کہا تھا کہ ایک بڑے پتھر سے ان کو مار دو۔لیکن چونکہ اس بیان میں جو اُس نے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ امرتسر کے سامنے دیا تھا اور اُس میں جواب آپ کے سامنے دیا کچھ فرق تھا اس لیے آپ کو کچھ شک پڑ گیا اور آپ نے بڑے زور سے اس امر کی تحقیقات شروع کی اور چار ہی پیشیوں میں 27 دن کے اندر مقدمہ فیصلہ کر دیا اور باوجود اس کے کہ آپ کے مقابلہ پر ایک مسیحی جماعت تھی بلا تعصب حضرت مسیح موعود کے حق میں فیصلہ دیا اور آپ کو صاف بری کر دیا بلکہ اجازت دی کہ اپنے مخالفین کے خلاف مقدمہ دائر کریں لیکن آپ نے اُن کو معاف کر دیا اور اُن پر کوئی مقدمہ نہ کیا۔ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ صاحب اپنے فیصلہ میں تحریر فرماتے ہیں:۔”ہم نے اُس کا بیان سنتے ہی اس کو بعید از عقل سمجھا کیونکہ اول تو اُس کا بیان جو ہمارے سامنے ہوا اُس بیان سے مختلف تھا جو امرتسر کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ صاحب کے سامنے ہوا۔علاوہ ازیں اس کی وضع قطع ہی شبہ پیدا کرنے والی تھی۔دوسرے ہم نے اس کے بیانات میں یہ عجیب بات دیکھی کہ جس قدر عرصہ وہ بٹالہ میں مشن کے ملازموں کے پاس رہا اُس کا بیان مفصل اور طویل ہوتا گیا۔چنانچہ اُس نے ایک بیان 12 / اگست کو دیا اور ایک 13 / اگست کو اور دوسرے دن کے بیان میں کئی تفصیلات بڑھ گئیں جو پہلے دن کے بیان میں نہ تھیں۔چونکہ اس سے ہمیں طبہ پیدا ہوا کہ یا تو اسے کوئی سکھاتا ہے یا اسے بہت سیرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کچھ معلوم ہے جسے وہ ظاہر نہیں کرنا چاہتا۔اس لیے ہم نے صاحب سپرنٹنڈنٹ پولیس کو کہا جو ایک یورپین آفیسر تھے کہ اس کو مشن کمپاؤنڈ سے نکال کر اپنی تحویل میں رکھو اور پھر بیان لو۔انہوں نے اُسے مشن کے قبضہ سے نکال لیا اور جب آپ نے اُس سے بیان لیا تو بلا کسی وعدہ معافی کے وہ روکر پاؤں پر گر گیا اور بیان کیا کہ مجھ کو ڈرا کر یہ سب کچھ کہلوایا گیا ہے۔میں اپنی جان سے بیزار ہوں اور خود کشی کے لیے تیار تھا اور درحقیقت جو کچھ میں نے مرزا صاحب کے خلاف بیان کیا وہ عبدالرحیم، وارث الدین اور پریم داس عیسائیوں کی سازش اور اُن کے سکھانے سے کیا ہے۔مرزا صاحب نے نہ مجھ کو بھیجا اور نہ میرا اُن سے کوئی تعلق تھا۔چنانچہ جو دقت ایک دن کے بیان میں آتی دوسرے دن یہ مجھے سکھا دیتے اور مرزا صاحب کے جس مرید کی نسبت میں نے بیان کیا تھا کہ اُس نے بعد از قتل مجھے پناہ دینی تھی اُس کی شکل سے بھی میں واقف نہیں نہ اُس کا نام سنا تھا انہوں نے خود ہی اس کا نام اور پتہ مجھے یاد کرا دیا اور اس ڈر سے کہ میں بھول نہ جاؤں میری ہتھیلی پر پنسل سے نام لکھ دیا تھا کہ اُس وقت دیکھ لینا اور یہ بھی کہا کہ جب پہلے مجھ سے مرزا صاحب کے خلاف بیان لکھوایا تو ان عیسائیوں نے خوش ہو کر کہا کہ اب 39 ہمارے دل کی مراد بر آئی (یعنی اب ہم مرزا صاحب کو پھنسا ئیں گے “۔یہ تمام تفصیل لکھ کر مجسٹریٹ صاحب بہادر نے آپ کو بری کیا۔اس مقدمہ پر آپ کے مخالف اس قدر خوش تھے کہ ایک آریہ وکیل نے بلا اُجرت اس میں مسیحیوں کی طرف سے پیروی کی اور مسلمان مولوی بھی آپ کے خلاف گواہی دینے آئے۔غرض مسیحی ، ہندو اور مسلمان مل کر آپ پر حملہ آور ہوئے اور بعض ناجائز طریق بھی اختیار کیے گئے لیکن خدا تعالیٰ نے کپتان ڈگلس کو پیلاطوس سے زیادہ ہمت اور حوصلہ دیا۔انہوں نے ہر موقعہ پر یہی کہا کہ میں بے ایمانی نہیں کر سکتا اور یہ نہیں کیا کہ اپنے ہاتھ دھو کر مسیح موعود کو اس کے دشمنوں کے