سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 19
32 سیرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سیرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 33 اس کے بعد انہی دنوں آپ ایک دفعہ فیروز پور تشریف لے گئے۔ان تمام سفروں کا ارادہ کیا اور اس کے لیے تمام مذاہب کے پیروان کو شامل ہونے کی دعوت دی جنہوں میں ہر جگہ آپ کو دِق کیا گیا اور لوگوں نے آپ کو بڑا دکھ دیا اور جو کچھ تحریر کے ذریعہ شائع کیا نے بڑی خوشی سے اس بات کو قبول کیا۔بحث میں شرط تھی کہ کسی مذہب پر حملہ نہ کیا جاوے گیا اس کی کوئی حد ہی نہیں۔جہاں آپ جاتے وہیں لوگ مل کر آپ کو دکھ دیتے۔تعطیل جمعہ کی کوشش اور حسب ذیل پانچ مضامین پر مختلف مذاہب کے پیروان سے مضامین لکھنے کی درخواست کی گئی: (1) انسان کی جسمانی ، اخلاقی اور روحانی حالتیں یکم جنوری 1896ء کو آپ نے اسلامی عظمت کے اظہار اور زبردست اسلامی شعار (2) انسان کی زندگی کے بعد کی حالت نماز جمعہ کے عام رواج کے لیے ایک کوشش کا آغاز فرمایا۔یعنی گورنمنٹ ہند سے تعطیل جمعہ (3) دنیا میں انسان کی ہستی کی اصل غرض کیا ہے اور وہ کس طرح پوری ہوسکتی ہے۔کی تحریک کی کارروائی شروع کی۔بدقسمتی سے مسلمانوں میں جمعہ کے متعلق جو اُن کے لیے (4) کرم یعنی اعمال کا اثر دنیا و عاقبت میں کیا ہوتا ہے۔مسیح موعود کا ایک زبردست عملی نشان تھا ایسی غلط فہمیاں پیدا ہوگئی تھیں کہ بعض شرائط کو ملحوظ (5) علم گیان و معرفت کے ذرائع کیا کیا ہیں۔رکھ کر جمعہ کی فرضیت پر ہی بحث چھڑ چکی تھی اور عملی طور پر جمعہ بہت جگہ متروک ہو گیا تھا آپ اس کا نفرنس کا مجوز حضرت کی خدمت میں بھی قادیان حاضر ہوا اور آپ نے ہر طرح نے اُس کو زندہ کیا اور چاہا کہ گورنمنٹ جمعہ کی تعطیل منظور فرمائے۔اس بارہ میں جو میموریل اُن کی تائید کا وعدہ کیا بلکہ اصلی معنوں میں اس کانفرنس کی بنیاد خود حضرت مسیح موعود علیہ گورنمنٹ کی خدمت میں بھیجنا آپ نے تجویز فرمایا اُس کی تیاری سے پہلے ہی مولویوں نے السلام نے ہی رکھی تھی۔جو شخص بعد میں کا نفرنس کا مجوز قرار پایا، قادیان آیا تو حضرت نے یہ اپنی عادت کے موافق مخالفت کی اور اس کام کو اپنے ہاتھ میں لینا چاہا۔حضرت مسیح موعود علیہ تجویز پیش کی تھی۔چونکہ آپ کی غرض دنیا کو اس صداقت سے آگاہ کرنا تھا جو آپ لے کر السلام یہ کام محض للہیت سے کر رہے تھے آپ کو کسی تحسین و داد کی تمنا نہ تھی۔آپ کا مدعا تو آئے تھے اور آپ کا ہر کام نمود و نمائش سے بالا تر ہوتا تھا اس لیے آپ نے اس شخص کو اس اس اہم دینی خدمت کا انجام پانا تھا خواہ کسی کے ہاتھ سے ہو۔آپ نے کل کام مولوی محمد تحریک میں سعی کرنے پر آمادہ کیا اور اس کا پہلا اشتہار قادیان میں ہی چھاپ کر شائع حسین بٹالوی کی درخواست پر اُن کے سپر د کر دینے کا اعلان کر دیا کہ وہ جمعہ کی تعطیل کے کرایا۔اپنے ایک مرید کو مقرر کیا کہ وہ ہر طرح اُن کی مدد کرے اور خود بھی مضمون لکھنے لیے خود کوشش کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں تو کریں۔مگر افسوس ! انہوں نے اس مفید کام کو اس کا وعدہ کیا۔جب آپ مضمون لکھنے لگے تو آپ سخت بیمار ہو گئے اور دستوں کی بیماری شروع راہ سے روک دیا مگر آپ کی یہ تحریک الہی تحریک تھی آخر خدا تعالیٰ نے آپ ہی کی جماعت ہو گئی لیکن اس بیماری میں بھی آپ نے ایک مضمون لکھا اور جب آپ وہ مضمون لکھ رہے تھے تو آپ کو الہام ہوا کہ مضمون بالا رہا۔یعنی آپ کا مضمون اس کا نفرنس میں دوسروں کے مضامین سے بالا رہے گا۔چنانچہ آپ نے قبل از وقت ایک اشتہار کے ذریعہ یہ بات شائع کے ذریعہ اس کو پورا کیا۔مذاہب عالم کا عظیم الشان جلسہ 1896ء کے اواخر میں چندلوگوں نے مل کر لاہور میں ایک مذہبی کا نفرنس منعقد کرنے کر دی کہ میرا مضمون بالا رہے گا۔