سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 18 of 35

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 18

30 سیرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سیرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پھر ایک سفر کیا۔پہلے لاہور گئے وہاں مولوی عبدالحکیم کلانوری سے مباحثہ ہوا وہاں سے اور اندھوں کو اچھا کیا کرتے تھے۔سیالکوٹ اور وہاں سے جالندھر اور پھر وہاں سے لدھیانہ تشریف لائے۔لدھیانہ سے پھر قادیان تشریف لے آئے۔مسیحیوں سے مباحثہ ”جنگ مقدس“ 31 پس آپ کا دعوی تب ہی سچا ہو سکتا ہے جب کہ آپ بھی ایسے مریضوں کو اچھا کر کے دکھلا ئیں اور دور جانے کی ضرورت نہیں مریض حاضر ہیں۔جب انہوں نے یہ بات پیش کی سب لوگ حیران رہ گئے اور ہر ایک شخص محو حیرت ہوکر اس بات کا انتظار کر نے لگا کہ دیکھیں کہ مرزا صاحب اس کا کیا جواب دیتے ہیں؟ اور مسیحی اپنی اس عجیب کا رروائی پر بہت خوش اس کے بعد 1893ء میں حضور کا مباحثہ مسیحیوں سے قرار پایا اور مسیحیوں کی طرف سے ڈپٹی عبد اللہ آتھم مباحث مقرر ہوئے۔یہ مباحثہ امرتسر میں ہوا اور پندرہ دن تک رہا ہوئے کہ آج ان پر نہایت سخت حجت تمام ہوئی ہے اور بھری مجلس میں کیسی خجالت اُٹھانی اور جنگ مقدس“ کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔پڑی ہے۔لیکن جب آپ نے اس مطالبہ کا جواب دیا تو اُن کی ساری خوشی مبدل به افسوس و اس مباحثہ میں بھی جیسا کہ ہمیشہ آپ کے مخالفین کو زک ہوتی رہی ہے، مسیحی ناظرین کو ندامت ہوگئی اور فتح شکست سے بدل گئی اور سب لوگ آپ کے جواب کی برجستگی و معقولیت سخت زک ہوئی اور اس کا نہایت مفید اثر ہوا۔اس مباحثہ کے پڑھنے سے ( یہ مباحثہ تحریری کے قائل ہو گئے۔آپ نے فرمایا کہ اس قسم کے مریضوں کو اچھا کرنا تو انجیل میں لکھا ہے ہم ہوا تھا اور طرفین آمنے سامنے بیٹھ کر ایک دوسرے کے پرچہ کا جواب دیتے تھے اور وہ اصل تو اس کے قائل ہی نہیں بلکہ ہمارے نزدیک تو حضرت مسیح کے معجزات کا رنگ ہی اور تھا۔یہ تو تحریر میں ایک کتاب کی صورت میں شائع کی گئی ہیں ) معلوم ہوتا ہے کہ مسیحی مباحث آپ انجیل کا دعویٰ ہے کہ وہ ایسے بیماروں کو جسمانی رنگ میں اچھا کرتے تھے اور اس طرح ہاتھ کے زبر دست استدلال سے تنگ آ جاتا تھا اور بار بار دعوئی بدلتا جاتا تھا اور بعض جگہ تو پھیر کر نہ کہ دعا اور دوا سے۔لیکن انجیل میں لکھا ہے کہ اگر تم میں ذرہ بھر بھی ایمان ہو تو تم مسیحیوں کی طرف سے ناروا سخت کلامی تک کی گئی ہے۔آپ نے اس جدید علم کلام کو پیش کیا لوگ اس سے بڑھ کر عجیب کام کر سکتے ہو۔پس ان مریضوں کا ہمارے سامنے پیش کرنا کہ ہرا ایک فریق اپنے مذہب کی صداقت کے دعاوی اور دلائل اپنی مسلمہ کتب سے ہی پیش آپ لوگوں کا کام نہیں بلکہ ہمارا کام ہے اور اب ہم ان مریضوں کو جو آپ لوگوں نے نہایت مہربانی سے جمع کر لیے ہیں آپ کے سامنے پیش کر کے کہتے ہیں کہ براہ مہربانی انجیل کے حکم کے ماتحت اگر آپ لوگوں میں ایک رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان ہے تو ان اس مباحثہ میں ایک عجیب واقعہ گزرا جس میں دوست دشمن آپ کی خداداد ذہانت مریضوں پر ہاتھ رکھ کر کہیں کہ اچھے ہو جاؤ۔اگر یہ اچھے ہو گئے تو ہم یقین کر لیں گے کہ آپ بلکہ الہی تائید کے قائل ہو گئے اور وہ یہ کہ گو بحث اور اُمور پر ہو رہی تھی مگر مسیحیوں نے آپ کو لوگ اور آپ کا مذہب سچا ہے ورنہ جو دعویٰ آپ لوگوں نے خود کیا ہے اُسے بھی پورا نہ کر شرمندہ کرنے کے لیے ایک دن کچھ لولے لنگڑے اور اندھے اکٹھے کیے اور عین دوران سکیں تو پھر آپ کی صداقت پر کس طرح یقین کیا جا سکتا ہے۔اس جواب کا ایسا اثر ہوا کہ مباحثہ میں آپ کے سامنے لا کر کہا کہ آپ مسیح ہونے کا دعوی کرتے ہیں ، وہ تو لولے لنگڑ۔مسیحی بالکل خاموش ہو گئے اور کچھ جواب نہ دے سکے اور بات ٹال دی۔کرے۔ایک عجیب واقعہ