سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 15 of 35

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 15

24 سیرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام يَاتِيكَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ وَيَا تُوْنَ مِنْ كُلَّ فَجٍّ عَمِيقٍ“۔بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے“۔( تذکره صفحه 50) ( تذکره صفحه 10) سیرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مدت تک آپ کے رشتہ داروں ہی کے قبضہ میں رہا۔دوسری شادی، خلق خدا کا رجوع، اعلان دعوی حقه 25 بھائی صاحب کی وفات کے ڈیڑھ سال بعد آپ نے الہام الہی کے ماتحت دوسری سیہ وہ الہامات ہیں جو براہین احمدیہ 1884ء میں شائع کیے گئے تھے جبکہ آپ دنیا میں شادی دہلی میں کی۔چونکہ براہین احمدیہ شائع ہو چکی تھی۔اب کوئی کوئی شخص آپ کو دیکھنے ایک کسمپرس آدمی کی حالت میں تھے لیکن اس کتاب کا نکلنا تھا کہ آپ کی شہرت ہندوستان کے لیے آنے لگا تھا اور قادیان جو دنیا سے بالکل ایک کنارہ پر ہے مہینہ دو مہینے کے بعد کسی نہ میں دور دور تک پھیل گئی اور بہت لوگوں کی نظریں مصنف براہین احمدیہ کی طرف لگ گئیں کہ کسی مہمان کی قیام گاہ بن جاتی تھی اور چونکہ لوگ براہین احمدیہ سے واقف ہوتے جاتے یہ اسلام کا کشتی بان ہوگا اور اسے دشمنوں کے حملوں سے بچائے گا اور یہ خیال اُن کا درست تھے۔آپ کی شہرت بڑھتی جاتی تھی اور یہ براہین احمدیہ ہی تھی جسے پڑھ کر وہ عظیم الشان تھا لیکن خدا تعالیٰ اسے اور رنگ میں پورا کرنے والا تھا اور واقعات یہ ثابت کرنے والے انسان جس کی لیاقت اور علمیت کے دوست دشمن قائل تھے اور جس حلقہ میں بیٹھتا تھا خواہ تھے کہ جو لوگ اِن دنوں اُس پر جان فدا کرنے کے لیے تیار ہو گئے تھے وہی اُس کے خون یورپینوں کا ہو یا دیسیوں کا اپنی لیاقت کا سکہ اُن سے منوا تا تھا آپ کا عاشق و شید ا ہو گیا اور کے پیاسے ہو جائیں گے اور ہر طرح اس کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے اور آپ کی با وجود خود ہی ہزاروں کا معشوق ہونے کے آپ کا عاشق ہونا اُس نے اپنا فخر سمجھا۔میری قبولیت کسی انسانی امداد کے سہارے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے زبردست حملوں کے ذریعہ سے مراد اُستاذی المکرم حضرت مولانا مولوی نورالدین صاحب سے ہے جو براہین احمدیہ کی اشاعت کے وقت جموں میں مہا راجہ صاحب کے خاص طبیب تھے۔انہوں نے وہاں ہی براہین احمدیہ پڑھی اور ایسے فریفتہ ہوئے کہ تادمِ مرگ حضرت صاحب کا دامن نہ چھوڑا۔سلسلہ بیعت کا آغاز اور پہلی بیعت مقدر تھی۔آپ کے بھائی صاحب کی وفات 1884ء میں آپ کے بھائی صاحب بھی فوت ہو گئے اور چونکہ وہ لا ولد تھے اس لیے اُن کے وارث بھی آپ ہی تھے لیکن اس وقت بھی آپ نے اُن کی بیوہ کی دلدہی کے لیے غرض براہین احمدیہ کا اثر رفتہ رفتہ بڑھنا شروع ہوا اور بعض لوگوں نے آپ کی خدمت جائیداد پر قبضہ نہ کیا اور اُن کی درخواست پر نصف حصہ تو مرز اسلطان احمد صاحب کے نام پر میں درخواست کی کہ آپ بیعت لیں لیکن آپ نے بیعت لینے سے ہمیشہ انکار کیا اور یہی لکھ دیا جنہیں آپ کی بھاوج نے رسمی طور پر متبنی قرار دیا تھا آپ نے تہنیت کے سوال پر تو جواب دیا کہ ہمارے سب کام خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔حتی کہ 1888ء کا دسمبر آ گیا صاف لکھ دیا کہ اسلام میں جائز نہیں لیکن مرزا غلام قادر مرحوم کی بیوہ کی دلد ہی اور خبر گیری جب کہ آپ کو الہام کے ذریعے لوگوں سے بیعت لینے کا حکم دیا گیا اور پہلی بیعت 1889ء کے لیے اپنی جائیداد کا نصف حصہ بخوشی خاطر دے دیا اور باقی نصف پر بھی خود قبضہ نہ کیا بلکہ میں لدھیانہ کے مقام پر جہاں میاں احمد جان نامی ایک مخلص تھے۔اُن کے مکان پر ہوئی