سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 14 of 35

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 14

22 سیرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سیرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 23 اشتہار کتاب براہین احمدیہ مذاہب کے پیروکسی طرح میدانِ مقابلہ میں آجائیں اور اس طرح اسلام کی فتح ثابت ہو ) یہ پہلا حصہ 1880ء میں شائع ہوا۔پھر اس کتاب کا دوسرا حصہ 1881ء میں اور پہلے تو آپ نے صرف اخبارات میں مضامین دینے شروع کیے لیکن جب دیکھا کہ تیسرا حصہ 1882ء اور چوتھا حصہ 1884ء میں شائع ہوا۔گوجس رنگ میں آپ کا ارادہ دشمنانِ اسلام اپنے حملوں میں بڑھتے جاتے ہیں اور مسلمان ان حملوں کی تاب نہ لا کر پسپا کتاب لکھنے کا تھا وہ درمیان میں ہی رہ گیا کیونکہ اس کتاب کی تحریر کے درمیان میں ہی آپ ہو رہے ہیں تو آپ کے دل میں غیرتِ اسلام نے جوش مارا اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے کو بذریعہ الہام بتایا گیا کہ آپ کے لیے اشاعت اسلام کی خدمت کسی اور رنگ میں الہام اور وحی کے ماتحت مامور ہو کر ارادہ کیا کہ ایک ایسی کتاب تحریر فرما ئیں جس میں اسلام مقدر ہے لیکن جو کچھ اس کتاب میں لکھا گیا وہی دنیا کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی تھا۔کی صداقت کے وہ اصول بیان کیے جائیں جن کے مقابلہ سے مخالف عاجز ہوں اور آئندہ اس کتاب کی اشاعت کے بعد آپ کے دوست دشمن سب کو آپ کی قابلیت کا اقرار اُن کو اسلام کے مقابلہ کی جرات نہ ہو اور اگر وہ مقابلہ کریں تو ہر ایک مسلمان اُن کے حملہ کور و کرنا پڑا اور مخالفین اسلام پر ایسا رعب پڑا کہ اُن میں سے کوئی اس کتاب کا جواب نہ دے کر سکے۔چنانچہ اس ارادہ کے ساتھ آپ نے وہ عظیم الشان کتاب لکھنی شروع کی جو براہین سکا۔مسلمانوں کو اِس قدر خوشی حاصل ہوئی کہ وہ بلا آپ کے دعوی کے آپ کو مجد د تسلیم احمدیہ کے نام سے مشہور ہے اور جس کی نظیر کسی انسان کی تصانیف میں نہیں ملتی۔جب ایک کرنے لگے اور اُس وقت کے بڑے بڑے علماء آپ کی لیاقت کا لوہا مان گئے۔چنانچہ حصہ مضمون کا تیار ہو گیا تو اُس کی اشاعت کے لیے آپ نے مختلف جگہ پر تحریک کی اور بعض مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی جو اُس وقت تمام اہل حدیث وہابی فرقہ کے سرگروہ تھے اور لوگوں کی امداد سے جو آپ کے مضامین کی وجہ سے پہلے ہی آپ کی لیاقت کے قائل تھے اس وہابی فرقہ میں اُن کو خاص عزت حاصل تھی اور اسی وجہ سے گورنمنٹ کے ہاں بھی اُن کی عزت تھی انہوں نے اس کتاب کی تعریف میں ایک لمبا آرٹیکل لکھا اور بڑے زور سے اس کا پہلا حصہ جوصرف اشتہار کے طور پر تھا شائع کیا گیا۔اس حصہ کا شائع ہونا تھا کہ ملک میں شور پڑ گیا اور گو پہلا حصہ صرف کتاب کا اشتہار تھا لیکن اُس میں بھی صداقت کے ثابت کرنے کے لیے ایسے اصول بتائے گئے تھے کہ ہر ایک شخص جس نے اُسے دیکھا اس کتاب کی عظمت کا قائل ہو گیا۔اس اشتہار میں آپ نے یہ بھی شرط رکھی تھی کہ اگر وہ خوبیاں جو آپ اسلام کی پیش کریں گے وہی کسی اور مذہب کا پیر و کی تائید کی اور لکھا کہ تیرہ سو سال میں اسلام کی تائید میں ایسی کتاب کوئی نہیں لکھی گئی۔اخبار غیبیہ اور سلسلۂ الہامات کی کثرت اس کتاب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے بعض الہامات بھی لکھے ہیں جن اپنے مذہب میں دکھا دے یا اُن سے نصف بلکہ چوتھا حصہ ہی اپنے مذہب میں ثابت کر میں سے بعض کا بیان کر دینا یہاں مناسب ہوگا کیونکہ بعد کے واقعات سے اُن کے غلط یا دے تو آپ اپنی سب جائیداد جس کی قیمت دس ہزار روپے کے قریب ہوگی ، اُسے بطور درست ہونے کا پتہ لگتا ہے:۔انعام کے دیں گے ( یہ ایک ہی موقع ہے جس میں آپ نے اپنی جائیداد سے اُس وقت فائدہ اُٹھایا اور اسلام کی خوبیوں کے ثابت کرنے کے لیے بطور انعام مقرر کیا تا کہ مختلف دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اُسے قبول نہ کیا لیکن خدا اُسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اُس کی سچائی ظاہر کر دے گا“۔( تذکرہ صفحہ 104)