سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 16 of 35

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 16

26 سیرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سیرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 27 اور سب سے پہلے حضرت مولانا مولوی نورالدین نے بیعت کی اور اُس دن چالیس کے زبر دست آرٹیکل لکھے تھے انہوں نے ہی آپ کے خلاف زمین و آسمان سر پر اُٹھا لیا اور لکھا قریب آدمیوں نے بیعت کی۔اس کے بعد آہستہ آہستہ کچھ لوگ بیعت میں شامل ہوتے کہ میں نے ہی اس شخص کو چڑھایا تھا اور اب میں ہی اسے گراؤں گا یعنی میری ہی تائید سے ان کی کچھ عظمت قائم ہوئی تھی اب میں اتنی مخالفت کروں گا کہ یہ لوگوں کی نظروں سے گر رہے۔مسیح موعود ہونے کا دعویٰ اور اُس کا اعلان لیکن 1891ء میں ایک اور تغیر عظیم ہوا یعنی حضرت مرزا صاحب کو الہام کے ذریعہ بتایا گیا کہ حضرت مسیح ناصری علیہ السلام جن کے دوبارہ آنے کے مسلمان اور مسیحی دونوں قائل ہیں، فوت ہو چکے ہیں اور ایسے فوت ہوئے ہیں کہ پھر واپس نہیں آسکیں گے اور یہ کہ مسیح کی بعثت ثانیہ سے مراد ایک ایسا شخص ہے جو اُن کی خوبو پر آوے اور وہ آپ ہی ہیں۔جائیں گے اور بدنام ہو جائیں گے۔مولوی صاحب مع بعض دیگر علماء کے لدھیانہ بھی پہنچے۔مباحثہ لدھیانہ اور مباحثہ کا چیلنج دیا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے منظور بھی فرما لیا۔لیکن مباحثہ * میں فریق مخالف نے اس قسم کی کج بحثیں شروع کیں کہ کچھ فیصلہ نہ ہوسکا اور جب ڈپٹی کمشنر صاحب نے دیکھا کہ ایک فتنہ عظیم برپا ہے اور قریب ہے کہ کوئی صورت غدر کی جب اس بات پر آپ کو شرح صدر ہو گیا اور بار بارالہام سے آپ کو مجبور کیا گیا کہ آپ اس بات کا اعلان کریں تو آپ کو مجبورا اس کام کے لیے اُٹھنا پڑا۔قادیان میں ہی آپ کو یہ پیدا ہو جائے تو انہوں نے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو ایک خاص حکم کے ذریعے لدھیانہ سے اُسی دن چلے جانے پر مجبور کیا۔اس پر بعض دوستوں کے مشورہ سے کہ شاید ایسا الہام ہوا تھا۔آپ نے گھر میں فرمایا کہ اب ایک ایسی بات میرے سپرد کی گئی ہے کہ اب حکم آپ کے متعلق بھی جاری ہو آپ لدھیانہ سے امرتسر تشریف لے آئے اور آٹھ دن اس سے سخت مخالفت ہو گی اس کے بعد آپ لدھیانہ چلے گئے اور مسیح موعود ہونے کا اعلان 1891ء میں بذریعہ اشتہار کیا گیا۔علماء زمانہ کی شدید مخالفت اور مباحثہ لدھیانہ اِس اعلان کا شائع ہونا تھا کہ ہندوستان بھر میں شور پڑ گیا اور اس قدر مخالفت ہوئی کہ الامان ! وہی علماء جو آپ کی تائید کرتے تھے آپ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔مولوی محمد حسین بٹالوی کی مخالفت وہاں رہے لیکن بعد میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ صاحب نے دریافت کرنے پر بتایا کہ آپ کے متعلق کوئی حکم نہ تھا جس پر آپ پھر لدھیانہ تشریف لے گئے اور پھر وہاں ہفتہ بھر کے قریب رہے اور پھر قادیان تشریف لے آئے۔دہلی کا سفر اور مولوی نذیرحسین سے مباحثہ اس کے بعد کچھ مدت قادیان رہ کر پھر لدھیانہ تشریف لے گئے جہاں کچھ مدت رہے اور وہاں سے دہلی تشریف لے گئے جہاں آپ 28 ستمبر 1891ء کی صبح کو پہنچے۔چونکہ دہلی اس زمانہ میں تمام ہندوستان کا علمی مرکز سمجھا جاتا تھا وہاں کے لوگوں میں پہلے سے ہی آپ یہ مباحثہ 20 جولائی 1891ء سے شروع ہوا اور متواتر کئی دن تک رہا۔یہ مباحثہ چونکہ تحریری ہوا تھا، اس لیے "الحق مباحثہ مولوی محمد حسین بٹالوی جنہوں نے اپنے رسالہ اشاعۃ السنہ میں آپ کی تائید میں لدھیانہ کے نام سے شائع ہوا۔( ناقل )