سیرت احمد — Page 91
169 168 اسماعیل خان کو بلایا۔اور سب کو تاکید کی کہ بڑی توجہ سے مرض کی تشخیص ہوشیار اور تندرست تھا۔اور اس کی عادات اور شکل و صورت کچھ ایسے کریں۔ساتھ ہی حضرت مولوی صاحب کو بھی حکم ملا۔بالاتفاق سب نے کہا دل لبھانے والے تھے کہ چھوٹی سی عمر میں وہ گھر کے سارے کام کرتا تھا۔که مرض سل ہے۔اور پھیپھڑہ میں تین بڑے بڑے سوراخ ہو چکے اور ذرا سے اشارہ سے بات کو سمجھ لیتا تھا۔کچھ انہی وجوہات سے میری محبت ہیں۔جب سب کی تشخیص میں نے حضور سے عرض کی۔آپ نے فرمایا کہ اس سے بہت ہو گئی۔پہلا لڑ کا چار سال کا ہو کر فوت ہو گیا۔دوسرا بھی جب تم اسٹپریز وائن اور کا ڈلیور آئیل کی ایک درجن پلاؤ۔اور تازہ جلیبی اور ساڑھے چار سال کا ہوا تو اسے تپ محرقہ ہوا۔میں نے بڑا علاج کیا مگر کوئی دودھ دونوں وقت غذا رو۔انشاء اللہ بالکل اچھی ہو جائے گی۔یہ تشخیص افاقہ کی صورت نظر نہ آئی۔جس دن اس کی بیماری کو پندرہ روز گزرے ہمارے نزدیک کچھ چیز نہیں۔چنانچہ یہ دوائی حضور نے اپنے خرچ سے مجھے تھے۔اس کو سرسام ہو گیا۔میں نے حضرت صاحب کی خدمت میں دعا کے منگوا دی۔جس کا استعمال چار پانچ ماہ تک کراتا رہا۔اور مریضہ بالکل لئے ایک عریضہ لکھا۔آپ نے اس پر جواب تحریر فرمایا کہ میں انشاء اللہ دعا تندرست ہو گئی۔اس کے بعد سات بچے پیدا ہوئے۔کروں گا۔پر اگر تقدیر مبرم ہے تو ٹل نہیں سکتی۔یہ پڑھ کر مجھے یقین ہو گیا ۱۹۰۵ ء میں جب حضور باغ میں مقیم تھے۔اور سید محمد اسحق صاحب کو کہ یہ بچہ بچ نہیں سکتا۔چنانچہ اس کے چوتھے دن اس کی حالت بہت نازک نمونیہ ہوا۔تو اس وقت اتفاقایہ ڈاکٹر لوگ پھر بلائے گئے۔تو حضور نے فرمایا تھی۔اور حضور اس دن گورداسپور والی تاریخ پر جانے والے تھے۔میں کہ ان سے پوچھو کہ وہ سوراخ ابھی بھی موجود ہے یا نہیں۔میں نے ڈاکٹر چونکہ ہر تاریخ پر ساتھ جایا کرتا تھا۔اس لئے میں بھی حاضر ہوا۔جب آپ یعقوب بیگ صاحب سے عرض کیا۔کہ آپ ان کے سینہ کا ملاحظہ کریں۔گھر سے تشریف لائے تو پہلے مجھے مخاطب کر کے فرمایا تمہارے بچہ کا کیا حال دیکھنے کے بعد فرمانے لگے۔میں نے وہ سوراخ کب بتائے تھے۔میں نے ہے۔میں نے عرض کیا کہ حضور چل کر دیکھ لیں۔جب آپ نے گھر آکر بچہ لاعلمی ظاہر کی۔تو فرمانے لگے۔اس وقت پھیپھڑہ صحیح سلامت معلوم ہوتا دیکھا۔تو فرمایا۔یہ بہت بیمار ہے۔آج تم گورداسپور نہ جاؤ۔آپ تشریف لے گئے۔اور دوسرے دن چار بجے کے قریب بچہ فوت ہو گیا۔اس سے اگلے دن حضور دس بجے گورداسپور سے واپس تشریف لے آئے۔میں بھی ہے۔میں نے حضرت صاحب سے عرض کیا۔تو فرمایا۔میرا خدا پھوٹے ہوئے پھیپھڑہ کو برابر کر دینے پر بھی قادر ہے۔چنانچہ آج تک پھر اس کو کبھی کھانسی نہیں ہوئی۔میرے گھر میں یکے بعد دیگر سے دو لڑکیاں تولد سن کر مصافحہ کے لئے آگے بڑھا۔میری گود میں چھوٹی لڑکی تھی۔جو اس ہو ئیں جو خدا کے فضل سے اس وقت تک موجود ہیں۔اس کے بعد ایک لڑکے سے چھوٹی تھی۔مجھے دیکھ کر حضور نے فرمایا۔مجھے تمہارے بچہ کے فوت ہو جانے کا بڑا رنج ہے۔مگر مجھے یہ خیال تھا کہ تمہاری محبت اس کے لڑ کا تولد ہوا۔وہ بھی نہ بولتا تھا نہ سنتا تھا۔پہلا لڑکا عموماً بیمار رہتا تھا۔دوسرا I