سیرت احمد — Page 92
171 170 آتا تھا۔بہر حال میں نے تمہارے بچہ کے لئے بڑی دعائیں کی تھیں۔اللہ تم کو نعم البدل دے گا۔اور وہ سننے والا۔بولنے والا ہو گا۔میں نے عرض کیا (بوجہ اس کے کہ میں حضور کے سامنے بڑی بے باکی سے بولتا تھا) کہ حضور ساتھ شرک کی حد تک پہنچی ہوئی تھی۔اس لئے اس کا زندہ رہنا محال نظر پیش خیمہ ہے۔تم فورا اس کو دس رتی ہینگ دے دو۔اور گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ کے بعد مجھے اطلاع دو۔میں عشاء کے بعد پھر حاضر ہوا۔اور عرض کیا کہ مرض میں ترقی ہو گئی ہے۔فرمایا دس رتی کو نین دے دو۔اور ایک گھنٹہ کے بعد پھر مجھے اطلاع دو۔اور یہ نہ سمجھنا کہ میں سو گیا ہوں۔بے تکلف میرے گھر میں دو لڑکیاں پیدا ہوئی ہیں۔اس کے بعد دو لڑکے پیدا ہوئے مردانہ سیڑھیوں سے آواز دو ایک گھنٹہ بعد میں پھر گیا اور عرض کیا کہ کوئی افاقہ نہیں ہے۔فرما یا دس رتی مشک دے دو۔میں نے عرض کیا۔اس وقت ہیں۔اب یہ لڑکی گود میں ہے۔اس کے بعد اگر لڑکا تولد ہوا تو نعم البدل ہو گا۔اور لڑکی ہو گی تو میں نعم البدل نہیں سمجھوں گا۔آپ ہنس پڑے اور مشک کہاں سے لاؤں۔حضور ایک مٹھی بھر کر مشک کی لے آئے۔فرمایا یہ دس رتی ہوگی۔میں نے عرض کیا حضور یہ زیادہ ہے۔فرمایا۔لے جاؤ پھر کام آویگا۔میں نے وہ لے لی۔اور دس رتی مریضہ کو دے دی۔ایک گھنٹہ بعد پھر گیا۔اور عرض کیا کہ مرض میں بہت اضافہ ہو گیا۔فرمایا دس تو کہ فرمایا۔خدا تعالیٰ کو تو اتنی طاقت ہے کہ آئندہ لڑکیوں کا سلسلہ ہی قطع کر دے۔چنانچہ اس کے بعد فضل کریم پیدا ہوا۔پھر عبد الحفیظ۔اس کے بعد دو حمل ساقط ہوئے ، دونوں لڑکے تھے۔اس کے بعد محمد عبد اللہ۔اس کے بعد عبد الکریم اور اس کے بعد احمد پیدا ہوا۔اور خدا کے فضل سے یہ پانچوں کٹرائیل دے دو۔میں نے آکر دس تولہ کسٹرائیل دے دیا۔اس کے بعد زندہ موجود ہیں۔فالحمد للہ رب العالمین۔اس کو بہت سخت تے ہوئی۔اور قے اس مرض میں آخری مرحلہ ہوتا ۱۹۰۷ء میں میرا دو سر الڑ کا عبد الحفیظ تولد ہوا۔سردی کے ایام تھے اور ہے۔قے کے بعد اس کا سانس اکھڑ گیا گردن پیچھے کو کھیچ گئی۔آنکھوں میں دن دنوں میں بہت زچہ عورتیں کہ ا۔یعنی تشیخ کی مرض سے مررہی تھیں۔زچہ کے لئے یہ مرض بہت خطرناک ہوتی ہے۔سینکڑوں میں سے کوئی ایک بچتی ہو گی۔اند ھیرا آگیا اور زبان بند ہو گئی۔میں پھر بھاگ کر سیڑھیوں پر چڑھا۔حضور نے میری آواز سن کر دروازہ کھول دیا۔اور فرمایا کیوں خیر ہے۔میں نے عرض کیا کہ اب تو حالت بہت نازک ہو گئی ہے۔سانس اکھڑ گیا ہے گردن میری بیوی کو بچہ تولد ہونے کے ساتویں دن مغرب کے قریب اس کے کھچ گئی۔آنکھوں میں روشنی نہیں۔زبان بند ہو گئی ہے۔فرمایا۔دنیا کے آثار معلوم ہوئے۔چونکہ ان دنوں میں یہ وبا تھی۔اس لئے اس کی طرف جتنے ہتھیار تھے وہ تو ہم نے چلا لئے۔اب ایک ہتھیار باقی ہے اور وہ دعا بہت توجہ ہو گئی۔میں مغرب کے بعد حضرت صاحب کی خدمت میں دوڑا ہے۔تم جاؤ میں دعا سے اس وقت سر اٹھاؤں گا۔جب اسے صحت ہو گی۔گیا۔اور ان سے عرض کی۔آپ نے فرمایا۔یہ تو بڑی خطرناک مرض کا میں یہ سن کر واپس لوٹ آیا۔اور اس کہا۔اب تجھے کیا فکر ہے اب تو ! !