سیرت احمد

by Other Authors

Page 90 of 131

سیرت احمد — Page 90

167 166 روایات ۷۵ حکیم مفتی فضل الرحمن صاحب مهاجر گئی۔نہ معلوم اس کے کیا معنی۔کوئی شخص جاوے۔اور خبر لے آوے۔اس لئے میں آیا ہوں۔میرے اندر قوت گویائی نہ تھی۔مگر اشارہ سے کہا ۱۸۹۸ء میں مجھے تپ محرقہ ہوا۔پندرھویں دن عشاء کے وقت حضرت کہ بارہ بجے سے افاقہ شروع ہوا ہے۔اس کے تیسرے چوتھے دن میں اس مولوی نورالدین صاحب دیکھنے کے لئے تشریف لائے۔مجھے اس وقت قابل ہوا کہ گھر سے نکل کر دروازہ میں جا بیٹھا۔اس وقت حضرت صاحب کے میر جانے کا وقت تھا۔آپ تشریف لے آئے اور مجھے دیکھ کر مسکرائے سرسام تھا۔مکان سے باہر نکل کر مولوی قطب الدین صاحب کو فرمایا کہ آج اس کی حالت بہت نازک ہے۔بچنا مشکل نظر آتا ہے۔پردہ کے پیچھے اور فرمایا۔اب تم اچھے ہو۔میں نے کہا۔ضعف بہت ہے۔فرمایا۔تریاق میری خوشدامنہ سن رہی تھیں۔وہ اسی وقت حضرت صاحب کے پاس الہی کھایا کرو۔چنانچہ متواتر مجھے تین ماہ تک تریاق الہی کھلاتے رہے۔دوڑی گئیں اور جا کر عرض کی کہ آپ کچھ توجہ کریں فضل الرحمن کی حالت ۱۹۰۴ء میں میری بیوی کو کھانسی شروع ہوئی اور فتہ رفتہ اتنی ترقی کی بہت خراب ہے۔آپ کسی کتاب کے لکھنے میں مصروف تھے۔فرمایا میں کہ رات دن میں ایک منٹ بھی چارپائی پر لیٹنا محال ہو گیا۔حضرت صاحب ایک ضروری مضمون لکھ رہا ہوں۔میں نے مولوی صاحب کو تاکید کردی ان دنوں میں مقدمہ کی پیروی کے سلسلہ میں گورداسپور مقیم تھے۔میں ہے کہ بہت توجہ کریں انہوں نے جواب دیا کہ مولوی صاحب تو تقریباً آج گورداسپور میں ان کا قارورہ لے گیا کیونکہ میں حضرت صاحب کی زندگی مایوسی کے لفظ بول گئے ہیں۔یہ سن کر حضرت صاحب نے اس مضمون کو میں علی العموم آپ کا ہی علاج کیا کرتا تھا) حکم دیا کہ مریضہ کو یہاں لے آؤ۔رکھ دیا اور فرمایا کہ میں نے ابھی اس سے بہت کام لینے ہیں۔تم جاؤ میں ابھی میں نے عرض کیا کہ اس کا یہاں آنا مشکل ہے۔فرمایا۔نواب صاحب کو اس کے لئے دعا کرتا ہوں۔چنانچہ وہ گھر واپس چلی آئیں۔رات کے بارہ میری طرف سے لکھ دو کہ وہ اپنی سواری دے دیں اور تم اس کو با آرام بجے مجھے ایک خون کا اسہال آیا۔اس کے بعد دوسرا اور اس کے ساتھ میری یہاں لے آؤ۔یہاں میں اس کے لئے مکان کا انتظام کر دیتا ہوں۔چنانچہ آنکھیں کھل گئیں۔اس کے بعد تیسرا آیا۔صبح کے وقت ماسٹر عبدالرحمن میں دوسرے دن قادیان آیا اور ان کو نواب صاحب کی رتھ میں سوار صاحب جالندھری میرے پاس آئے اور کہا کہ نماز صبح کے بعد حضرت کر کے گورداسپور لے گیا۔خود تو حضور ایک منزل مکان میں تشریف رکھتے صاحب نے مولوی عبد الکریم صاحب سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ رات جس تھے اور تنگی مکان کی وجہ سے خیمہ وغیرہ لگا کر رکھتے تھے اور میرے لئے ایک دو منزلہ مکان کرایہ پر لے رکھا تھا۔اور مکان بھی ایسا کہ شہر بھر میں ایسا مکان وقت مجھے یہ اطلاع ملی فضل الرحمٰن کی حالت خطرہ میں ہے۔تو مجھے دعا کی طرف توجہ ہوئی۔اور میں بارہ بجے تک سجدہ میں رہا۔مجھے بتلایا گیا کہ شفا ہو ملنا مشکل تھا۔وہاں آپ نے ڈاکٹر یعقوب بیگ ڈاکٹر محمد حسین اور ڈاکٹر۔