سیرت احمد

by Other Authors

Page 61 of 131

سیرت احمد — Page 61

109 108 پہلے کبھی نہ کیا تھا۔اس لئے کھانا بھی نہ کھایا جا سکا۔کیونکہ ڈر تھا کہ اگر گاڑی مجھے بڑی ہنسی آئی۔ایک آدمی نے کہا۔تم پنجابی نہیں جانتے ہنستے کیوں ہو۔سے اترا تو ریل چل نہ دے۔آخر امرت سرا ترا۔صبح کو بٹالہ کا ٹکٹ لیا۔میں نے کہا۔کشفی حالت میں میں نے یہ سب کچھ سمجھ لیا ہے۔بٹالہ میں آگیا۔وہاں ایک مولوی ملا۔اس نے فارسی میں گفتگو کی۔اس نے میں اور حضرت مولوی عبد اللطیف صاحب حضرت صاحب کے پیچھے پوچھا کہاں جانا ہے۔میں نے کہا مرزا صاحب کے پاس جاتا ہوں۔اس نے پیچھے مشرق کی طرف سیر کو جا رہے تھے۔مولوی صاحب کی یہ عادت تھی کہ کہا وہ کافر ہے تم کافر کے پاس کیوں جاتے ہو۔میں نے کہا۔میں اس کے وہ اپنی گرد کو جو راستہ میں ان پر پڑ جاتی تھی اتارتے یعنی جھاڑتے نہ تھے۔پاس ضرور جاؤں گا اور اس کو دیکھوں گا۔تم ایسے ہو جیسے شیطان۔تم خدا کی راہ سے روکتے ہو۔میں ہزاروں کو س سے آیا ہوں۔وہاں ضرور جاؤں گا۔جب بٹالہ سے چل کر نصف راہ میں آیا۔میں راہ پوچھتا پوچھتا چلتا تھا۔جب میں راہ پر چلنے لگوں تو مجھے خوشبو آوے۔جب میں راہ چھوڑ دوں تو خوشبو ہٹ جاوے۔میں حیران ہوا کہ شاید یہاں درخت ہے مگر پھر دل میں محسوس ہوا کہ مرزا صاحب کی خوشبو ہے جو مجھے آتی ہے۔اور وہ خوشبو پر جب تک کہ سیر سے واپس آئے ہوئے کچھ دیر نہ ہو جاتی۔پھر بھی کہتے حضرت صاحب نے ابھی گرد نہ جھاڑی ہو گی۔جب کافی عرصہ گذر جاتا تو گرد جھاڑتے۔ایک دن جبکہ ہم حضرت صاحب کے ساتھ سیر میں تھے مولوی عبد اللطیف صاحب نے ہنس ہنس کر مجھے بتلایا کہ مجھے جنت کی حور ملی جو بہت شنگاری ہوئی تھی۔اس نے مجھے کہا۔ذرا میری طرف بھی دیکھ لو۔میں نے مجھے قادیان کی مسجد اقصیٰ تک آتی رہی۔تھوڑی دیر بعد میں مسجد مبارک کہا۔تو بہ اس انسان کے سامنے۔میں تم کو کبھی بھی اس شخص کے مقابل میں آیا۔مولوی عبد الکریم صاحب ملے ان سے کسی نے میرا حال بیان کیا نہیں دیکھوں گا۔کیا اس کو چھوڑ کر میں تم کو دیکھ سکتا ہوں۔وہ روتی ہوئی مولوی صاحب نے کہا۔خوب۔پھر شہید مرحوم مجھے یہاں مل گئے۔جب واپس چلی گئی۔حضرت مسیح موعود (علیہ الصلوۃ والسلام) باہر تشریف لائے تو شہید مرحوم نے حضور سے میری بیعت کے لئے کہا۔حضور نے میری بیعت لی۔میں کچھ دن یہاں رہا۔میں درود شریف پڑھا کرتا تھا ایک دفعہ کشفی حالت طاری ہوئی اور آل محمد کہتے ہوئے مجھے آدم سے لیکر تمام انبیاء کی زیارت ہوئی۔ایک ایک دن مجھے شہید مرحوم نے فرمایا۔کہ اپنے والد صاحب کو تم نے نہیں دیکھا۔وہ بھی تمہارے پیچھے پیچھے تھا۔کہا تم پر بہت زنگ تھا۔میں نے بہت صاف کیا۔آخر جب آنکھوں پر آیا ایک آنکھ کو میں نے بہت صاف کیا تو دوسری آنکھ کے لئے تمہارے والد نے کہا کہ میں دوسری آنکھ صاف کر دن میں حضرت صاحب کے پاس بیٹھا۔کسی نے پنجابی کا شعر پڑھا۔میں پنجابی دوں گا۔میں نے کہا چلو یہ دوسری دنیا سے آیا ہے۔اس کو بھی افسوس رہے نہ جانتا تھا۔مگر مجھے کشفی حالت میں وہ سب شعر سمجھ میں آتے جاتے تھے۔گا۔چنانچہ دوسری آنکھ تمہارے والد صاحب نے صاف کی۔