سیرت احمد

by Other Authors

Page 62 of 131

سیرت احمد — Page 62

111 110 ایک دفعہ کی بات ہے شہید مرحوم نے کہا میرے وجود پر رسول کریم ایسا اس آیا ہے کہ میرے پاس سے نہیں جاتا۔تھوڑی دیر میں چار پائی پر لیٹا میں نے تفتیش کے لئے وہاں پہنچا۔اس کو صادق اور سچا پایا۔اور اس کے دعوئی کو کلام اللہ اور حدیث کے مطابق پایا۔اور تین ماہ وہاں رہا۔اب وہاں ہی چارپائی کو صاف کر دیا تھا۔پھر جلدی اٹھے تو کہا۔قلم دوات لاؤ۔مجھے یہ سے واپس آیا ہوں۔تم لوگوں کو بھی ہدایت کرتا ہوں کہ اس کی اتباع الہام ہوا ہے : -: جسم منو رمُعَمَّرَ مُعَطِرَ يُضِيْ كَالنُّوالُوا الْمَكْنُونِ نُوْ وَعَلَى نُورٍ کچھ عرصہ بعد شہید مرحوم روانہ ہوئے۔انہوں نے مجھے کہا تم ساتھ چلو۔میرا دل نہ چاہتا تھا کہ قادیان سے جاؤں ان کو بوجہ ادب انکار بھی نہ کیا۔حضرت صاحب کو رقعہ لکھا کہ حضور میرے استاد (شهید مرحوم) مجھے ساتھ لے جانا چاہتے ہیں مگر میں جانا نہیں چاہتا۔حضور نے جواب میں فرمایا۔کہ اب تم چلے جاؤ۔تم پھر آؤ گے (یہ نہیں فرمایا کہ تم پھر آنا) کر کے امن پاؤ گے۔ایک آدمی کو مندرجہ بالا خط دے کر کابل روانہ کیا۔اس کے بعد ایک دن شہید مرحوم نے ایک خط حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو لکھا۔جس کا سر نامہ بڑا عظیم الشان تھا کہ میں کابل کے بادشاہ اور حکام کو تبلیغ کے لئے خطوط لکھ چکا ہوں۔دیکھئے اس کا کیا جواب آئے گا۔میں نے شہید مرحوم کو کہا۔یہ خط مجھے دے دیں۔میں اس کا پتہ لکھوں۔فرمایا یہ تمہارے ہی ہاتھ میں آوے گا۔یہ بات ختم ہو کر اسی طرح رہ گئی۔تھوڑی دیر بعد پچاس سوار آگئے۔انہوں نے وہ پچاس سوار دیکھنے کے بعد میں شہید مرحوم کے ساتھ چلا گیا۔جب چلنے لگے تو حضرت مسیح موعود نماز عصر ادا کی۔اور پھر وہ خط مجھے دیا۔جس کی پشت پر میں نے لکھا کہ شہید علیہ الصلوۃ والسلام بھی ان کے ساتھ پر لی سڑک تک گئے۔شہید مرحوم چلتے وقت جب حضرت صاحب سے رخصت ہونے لگے تو پاؤں پڑے یعنی دیر تک پاؤں کو پکڑا اور چھوڑتے نہ تھے۔حضرت صاحب نے فرمایا بس کرو۔پاؤں چھوڑ دو۔اَلْاَمَرْفُوقُ الْاَدب مولوی عبد اللطیف نے مجھے راستہ میں کہا۔ابھی الہام ہوا ہے۔اذهب الى فرعون اور کہا۔ہم کو فرعونیوں کی طرف جانا ہے۔پھر وہ اپنی جگہ پہنچے۔ہم بھی ساتھ تھے۔وہاں پہنچ کر انہوں نے امیر کابل کو اور افسروں کو تبلیغی خط لکھا کہ میں حج کے واسطے گیا تھا۔اور میں پنجاب میں قادیان ایک جگہ ہے جس میں ایک انسان کا دعویٰ تھا کہ میں خدا کی طرف سے آیا ہوں۔مامور ہوں۔نبی ہوں۔میں مرحوم گرفتار ہو گئے اور ان کو پچاس سوار پکڑ کر لے گئے۔اور مجھے شہید مرحوم نے فرمایا۔کہ دیکھو اگر میں مارا گیا۔تو میرا جنازہ پڑھنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو لکھنا۔میں نے وہ خط حضرت صاحب کے پاس مضمون بالا لکھ کر بھیج دیا۔کہ وہ یہ یہ باتیں کر گئے ہیں۔وہ پچاس سوار مولوی صاحب کو پکڑ کر لے گئے۔اور کابل پہنچا دیا۔وہاں ان کو تین ماہ کے بعد شہید کر دیا گیا۔اس کے متعلق سب واقعات چھپ چکے ہیں۔مجھے حاکم نے بند کر دیا کہ تم قادیان نہ جانا۔میں نے اپنے گھر میں کہا کہ تم تیاری رکھو۔اگر حاکم نے مجھے قید بھی کر دیا۔تو میں قید خانہ سے بھی انشاء اللہ آجاؤں گا۔اور ہم تم ضرور قادیان چلیں گے۔مجھے خداوند تعالیٰ نے