سیرت احمد — Page 60
107 106 تھے۔ایک دن بتایا کہ قرآن مجھے دریا کی شکل میں آکر مجھے عرش تک لے ان کا ( حضرت مولوی عبد اللطیف صاحب کا مہمان خانہ ایک بڑا مہمان جاتا ہے۔اور کبھی مجھے انسان کی شکل میں بن کر اپنے معنے بتاتا ہے اور مجھے خانہ تھا۔اس میں بہت لوگ بیٹھتے تھے ، ان کو کہا کہ بشرط زیست میں اس ایسے علوم بتاتا ہے کہ اگر میرے پاس کوئی بھی کتاب نہ ہو وے یہ پہاڑ کے انسان سے ضرور ملوں گا۔اور تم سب لوگ اس کو ضرور ملو۔اگر میں مر بھی درخت اور پتھر کتاب کی مثل میں لوگوں کو پڑھا سکتا ہوں۔میں اس میں سے گیا تو میرا سلام پہنچا دیتا۔میں اس کی کتاب کو دیکھتا ہوں۔اور اس میں وہ حقائق و معارف بیان کر سکتا ہوں جیسے کوئی کتاب سے۔اسی اثناء میں امیر قرآن سے دوسرے درجہ پر نور پاتا ہوں۔یہ وہی آدمی ہے جس کا وعدہ دیا عبدالرحمن نے جو کہ سرحد کو انگریزوں کے ساتھ تقسیم کرتا تھا۔اس میں گیا تھا۔اس کے مقابلہ میں میری عقل معارف کے لحاظ سے اس کے شاگرد مولوی عبد اللطیف صاحب کو اپنی طرف سے کام کرنے والا مقرر کیا۔سب کے مثل بھی نہیں ہے۔اور اپنے شاگر د عبدالرحمن کو بھیجا۔کچھ تحائف پہاڑوں میں سے حد کو قائم کیا۔اور بہت فائدہ سے کام کیا۔اس اثناء میں بھی بھیجے۔میں نے بھی اس کتاب کو دیکھا جو مولوی صاحب کے پاس تھی۔ایک پشاور کا آدمی آیا اور اس آدمی نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ عبد الرحمن یہاں (قادیان) سے ہو کر گیا۔اور کچھ اور کتابیں لے گیا اور و السلام کی ایک کتاب غالبا انجام آتھم یا براہین احمدیہ عبد اللطیف صاحب کو شہید مرحوم کو دیں اور کچھ ہم لوگوں کو بھی دیں۔میرے پاس انجام آتھم دی۔چونکہ وہ (مولوی صاحب) اردو کا علم بھی پاس کر چکے تھے۔کتاب کو کتاب آئی۔میں اردو تو نہ سمجھتا۔صرف عربی کچھ سمجھی۔میں اس کو پڑھتا دیکھ کر خوش ہو کر اس شخص کو جبیب سے کچھ انعام دیا۔وہ کتاب لا کر اپنے تھا اور روتا تھا۔آخر چونکہ امیر کابل کا ڈر تھا۔اس لئے شہید مرحوم نے وہ مہمان خانہ میں پڑھی۔جب اس کے دو تین صفحے پڑھے۔تو فرمایا۔کہ میں کتاب مجھ سے لے لی۔اور شہید مرحوم نے پھر کئی دن بعد ایک اور آدمی نے ساری دنیا پر نظر رکھی تھی کہ کوئی جگہ مجھے نظر آئے مگر کوئی ایسی جگہ نظر وہاں سے (کابل سے) بھیجا اور اپنی بیعت کا خط اسے دیا۔اور کئی لوگوں نے نہ آئی۔کہ مجھے توجہ ہو کہ وہ جو نور آنے والا ہے اس جگہ سے نکلے گا۔جن میں میں بھی شامل تھا بیعت کے خطوط دیئے۔تھوڑے عرصہ بعد امیر آخر میرا گمان غالب یہ تھا کہ مجھے ہی خدا تعالیٰ اس کام کے لئے کچھ دنوں میں عبد الرحمن کا انتقال ہو گیا۔شہید مرحوم حج کی اجازت حاصل کر کے وہاں مقرر فرما دے گا۔فرمایا کہ یہ وہی انسان ہے کہ رسول کریم نے فرمایا تھا کہ سے روانہ ہو گئے۔مجھے علم ہوا تو میں نے سمجھا وہ ضرور قادیان سے ہو کر تم میں حکم بن کر ابن مریم آویگا۔اگر پہاڑوں کی سروں پر اترے گا۔تو تم کہیں جاویگا۔مجھے جوش تھا اس لئے میں بغیر کسی خرچ کے وہاں سے تن تنہا دوڑ دوڑ کے اس کی طرف جاؤ۔یہ وہی آدمی ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس زمانہ چل پڑا۔راستہ میں اللہ تعالیٰ نے عجیب رنگ میں امداد دی۔اور سفر خرچ کے لئے مقدر کیا تھا۔کل انبیاء نے اس کے لئے پیشگوئی کی تھی۔وغیرہ بھی خدا نے اس طریق پر دیا کہ مِنْ حَيْثُ لا يحتسب ریل کا سفر