سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 74 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 74

سيرة النبي عمال 74 جلد 4 امر کا شکوہ تھا کہ وہ اس محبوب سے تیرہ سو سال پہلے کیوں پیدا ہو گئے ؟ اور مجھے اس کا افسوس کہ میں تیرہ سو سال بعد میں کیوں پیدا ہوا؟ پہلی کتب کے لئے رحمت میں نے بزرگان دین کی طرف توجہ کرنے کے بعد پہلی کتب کی طرف نگاہ کی اور میں نے خیال کیا کہ بزرگ فوت ہو چکے، ان کے کارنامے لوگوں کے سامنے نہیں اور شاید انسان انسان سے حسد بھی کرتا ہے ممکن ہے حسد اور بغض کی وجہ سے لوگوں نے ان بزرگوں کی قدر نہ کی ہو اور چھوٹے لوگ بڑے لوگوں کی باتوں میں آ گئے ہوں اس لئے آؤ ہم ان کتب پر نظر ڈالیں جو آسمانی کہلاتی ہیں اور ان کی قدرو قیمت کا اندازہ لگائیں۔میں نے ویدوں پر بنگہ کی اور ان میں بعض ایسے شاندار خیالات دیکھے، ایسے پاکیزہ جواہر پارے دریافت کئے کہ میرے دل نے تسلیم کر لیا کہ ان کو پیش کرنے والے رشی منی خدا تعالیٰ سے ہی سیکھ کر یہ باتیں پیش کرتے تھے۔اس کے کئی حصے میری سمجھ میں نہیں آئے لیکن میں نے سمجھا اتنے لمبے عرصہ میں انسانی دست بُر دبھی کتابوں کو کچھ کا کچھ بنا دیتی ہے بہر حال ان میں مندرج خیالات کی عام رو نہایت پاکیزہ تھی۔پھر میں نے گوتم بدھ کی پیش کردہ تعلیم کو دیکھا تو اصولی طور پر اس کو بہت سے حسن سے پُر پایا۔اگر ویدوں میں محبت الہی کے جلوے نظر آ رہے تھے تو بدھ کی تعلیم میں خدا تعالیٰ پر اتکال اور اخلاق فاضلہ کے خوبصورت اصل نظر آئے۔بیشک ان کی تعلیم میں بھی بہت سی باتیں میری عقل کے خلاف تھیں مگر اصولی طور پر میں اس امر کو سمجھ سکتا تھا کہ وہ تعلیم آسمانی منبع سے ہی نکلی ہے اور انسانی عقل اس کا سرچشمہ نہیں۔گو یہ حق ہے کہ انسان نے بعد میں کتر بیونت سے اس کے حسن کو کم کرنے کی کوشش ضرور کی ہے۔اس کے بعد میں زرتشت کی تعلیم کی طرف متوجہ ہوا اور اس میں میں نے نہ صرف اخلاق کی اعلی تعلیم پائی بلکہ تدبیر کا پہلونہایت روشن طور پر کام کرتا ہوا نظر آیا۔بدھ میں صوفیت کی روح کام کر رہی تھی لیکن زرتشت میں ایک معلم کی جو ایک بچہ کی کمزوریاں دیکھ کر