سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 75
سيرة النبي علي 75 جلد 4 اس کو تفصیلی ہدایات دیتا ہے جن سے اُس کے لئے اپنا کام عمدگی سے پورا کرنا آسان ہو جاتا ہے۔میں نے اس میں دوسری تعلیمات کے مقابلہ کی نسبت معاد پر زیادہ زور پایا اور اس میں یہ روح کام کرتی ہوئی دیکھی کہ زیادہ اس خیال میں نہ پڑو کہ تم کس طرح پیدا ہوئے ؟ تم کدھر جا رہے ہو اور مستقبل میں تم سے کیا پیش آنے والا ہے اس کا زیادہ خیال کرو۔میں نے دیکھا کہ وہ تعلیم جنت اور دوزخ اور عالم برزخ اور حساب اور تو بہ اور گناہوں کی فلاسفی وغیرہ کے خیالات سے لبریز تھی اور گو اس میں بھی انسانی دست اندازی کے اثر ہویدا تھے لیکن یہ امر بھی بالبداہت ثابت ہوتا تھا کہ اس کا نزول اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھا اور زرتشت ایک عمدہ گویے نہ تھے جو فطرت کے رازوں کو ظاہر کر رہے ہوں بلکہ خود ایک ئے تھے جس میں دوسرا شخص اپنی آواز ڈالتا ہے اور جس سُر کے اظہار کے لئے چاہتا ہے اسے کام میں لاتا ہے۔پھر میں نے تو رات اور اس کے ساتھ کی کتب پر نگاہ کی اور انہیں خدا تعالیٰ کے جلال کے اظہار اور شرک کی تردید اور توحید کے اثبات کے خیالات سے پُر پایا۔میں نے دیکھا کہ ان کتب میں اللہ تعالیٰ کی بندوں پر حکومت اور ان کی مشکلات میں ان کی رہنمائی پر خاص زور تھا اور اس کے پڑھنے سے معلوم ہوتا تھا گویا خدا تعالیٰ کوئی الگ بیٹھی ہوئی ہستی نہیں بلکہ وہ ایسا بادشاہ ہے جو روز مرہ اپنے بندوں کے کام کا جائزہ لیتا ہے اور شریر کو سزا دیتا اور نیک کو انعام دیتا ہے اور ان کی غلطیوں پر تنبیہ کرنے کے لئے تازہ بتازہ احکام بھیجتا رہتا ہے۔میں نے اس مجموعہ میں یہ نیا امر دیکھا کہ جہاں گزشتہ کتب تعلیم پر زیادہ زور دیتی تھیں اور معلم کو نظر انداز کر دیتی تھیں وہاں اس مجموعہ میں معلموں کی شخصیتیں نہایت نمایاں نظر آتی تھیں اور تعلیم سے کم معلم کی شخصیت پر زور نہ تھا اور اسی اصل کے ماتحت اس کتاب میں ایک یا دو معلموں کے ذکر پر بس نہیں کی گئی تھی بلکہ معلموں کی ایک لمبی صف تھی جو ہر وقت تعلیم کے صحیح مفہوم کو سمجھانے کے لئے استاد نظر آتی تھی۔اس شریعت میں بھی زرتشتی کتاب کی طرح تفصیلات تعلیم پر خاص زور تھا اور گو اس میں