سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 73 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 73

سيرة النبي عليه 73 جلد 4 ان میں سے ایک کا بھی انکار کرتا ہے خدا تعالیٰ کی درگاہ سے راندہ جاتا ہے اور جوان کے نقش قدم پر چلتا ہے برکت پاتا ہے اور ہدایت حاصل کرتا ہے۔میری روح اس آواز کو سن کر خدا تعالیٰ کے سامنے سجدہ میں گر گئی اور میں نے کہا اے پیارے مالک! اگر یہ آواز تیری طرف سے بلند نہ ہوتی تو میں تو تباہ ہو جاتا۔مجھے تو نے حُسن کو پہچاننے کا مادہ دیا ہے۔اندھا حُسن سے بے خبر رہ کر دنیا کی اس کیفیت سے متاثر ہوئے بغیر رہ سکتا تھا جو میں نے دیکھی لیکن میں جسے تو نے آنکھ دی تھی اگر اس آواز کو نہ سنتا تو دیوانہ ہو جاتا ، پاگلوں کی طرح کپڑے پھاڑ کر جنگلوں میں نکل جاتا۔مجھے تو کرشن ، رامچندر، بدھ ، زرتشت ، موسی ، عیسی میں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔میرے لئے یہ عقده لا ینحل تھا کہ حسن موجود ہے لیکن لوگ اسے نہیں دیکھتے مگر تیرا شکر اور احسان ہے کہ تو نے اس آواز کو بلند کیا۔میرا دل اُس وقت اس آواز والے کی محبت سے بھی اس قدر لبریز ہوا کہ میں نے سمجھا میرے صبر کا پیالہ ابھی چھلک جائے گا۔میرے سینہ سے پھر ایک آہ نکلی اور میں نے کہا کہ یہ آواز تو سب دنیا کے بزرگوں کے لئے ایک رحمت ثابت ہوئی اور میں نے بیتاب ہو کر اس آواز کے مالک کے دامن کو پکڑنا چاہا۔لیکن میرے اور اس کے درمیان تیرہ صدیوں کا پردہ حائل تھا۔ایک قابو میں نہ آنے والا ماضی ، ایک بے بس کر دینے والا گزشتہ زمانہ۔آہ! اے عزیز و! میں تم کو کیا بتاؤں اُس وقت میرا کیا حال تھا۔ایک پیاس سے مرنے والے آدمی کے منہ سے پانی کا گلاس لگا کر جس طرح کوئی روک لے وہ اس کی خنکی کو تو محسوس کرے لیکن اس کی تراوت اس کے حلق کو نہ پہنچے بالکل میرا یہی حال تھا۔مجھے یوں معلوم ہوتا تھا اس آواز کا صاحب بالکل میرے پاس ہے اور باوجود اس کے اُس کے اور میرے درمیان تیرہ صدیوں کا لمبا بعد تھا۔میں اس کے دامن کو چھوتا تھا مگر پھر بھی پکڑ نہیں سکتا تھا۔اُس وقت میرا دل چاہتا تھا کہ اگر مجھے داؤد نبی مل جائیں تو میں انہیں پکڑ کر گلے لگالوں اور پھر خوب روؤں۔وہ مستقبل کے گلے کریں اور میں ماضی کے شکوے۔کیونکہ انہیں اس