سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 55
سيرة النبي عمال 55 جلد 4۔چمک رہا ہے؟ کس کا ہاتھ کام کر رہا ہے؟ میں نے دیکھا چاند کی وہ بے نور مٹی بھی جسے ہیئت دان کہتے ہیں کہ ہزاروں سال کے تغیرات کے ماتحت مردہ ہو چکی ہے خوشی سے چمک رہی تھی۔اسے اس سے کیا کہ وہ سرد ہے یا گرم، نیم مردہ ہے یا زندہ، اس کا ذرہ ذرہ تو اس خوشی سے دمک رہا تھا کہ وہ اب سے آيَةٌ مِّنْ آیتِ اللهِ کہلائے گا۔کسی چیز نے میرے دل میں ایک چٹکی لی اور میں نے ایک آہ بھری۔پھر میں نے کہا یہ آواز تو ان اجرام فلکی کیلئے ایک رحمت ثابت ہوئی۔فرشتوں کیلئے رحمت پھر میری نظر اور بھی بلند ہوئی اور میں نے عالم خیال میں اوپر آسمانوں پر ایک مخلوق دیکھی جو نہایت خوبصورت اور نہایت پاکیزہ تھی۔ان کے چہرے میں نے عالم کشف اور رویا میں دیکھے ہوئے تھے۔میں نے عالم خیال میں بھی ان کی ویسی ہی شکل دیکھی اور مجھے نہایت بھولے بھالے وجود نظر آئے ، لطیف اجسام کے جن کو صرف روحانی آنکھ دیکھ سکتی ہے، پاکیزہ صورت اور پاکیزہ سیرت محنتی اور کام کرنے والے، ایسے کہ ان کو وقت کے آنے جانے کا کچھ علم ہی نہ ہوتا، ان کا ہر لحظہ گویا آقا کی خدمت کے لئے رہن تھا ، وہ مشینیں تھیں جو مالک کے اشارہ پر چلتی ہیں مگر میں نے اپنی فکر کی آنکھ سے دیکھا کہ ان کے خوبصورت چہروں پر افسردگی کے آثار تھے۔ان کی تازگی میں بھی ایک جھلک پژمردگی کی تھی۔میں نے اس کے سبب کی تلاش کی مگر آسمان پر کوئی بات مجھے نظر نہ آئی جو اس کا موجب ہوتی۔ان کا آقا ان سے خوش تھا اور وہ اپنے آقا سے خوش۔پھر ان کی افسردگی کا کیا باعث تھا؟ میں نے پھر زمین پر نظر کی اور ایک دل دہلانے والا نظارہ دیکھا۔میں نے بلند عمارتیں دیکھیں جو ان فرمانبردار روحوں کے نام پر بنائی گئی تھیں میں نے ان میں ان کے مجسمے دیکھے جن کی لوگ پوجا کر رہے تھے۔میں نے بھاری بھر کم جسموں والے بڑے بڑے جُوں والے لوگ دیکھے جو نہایت سنجیدہ شکل بنائے ہوئے یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ گویا سب دنیا کا علم سمٹ کر ان کے دماغوں میں جمع ہو گیا