سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 54
سيرة النبي عمال 54 جلد 4 کے جسم پر خوبصورتیوں کا مجموعہ نظر آتا تھا اب کیسا برا، کیسا بھڈ انظر آتا ہے۔میں نے کہا یہی حال آسمان کے اجسام کا ہے جب تک ان میں ازلی ابدی محبوب کا چہرہ دیکھا جائے وہ کیسے خوبصورت نظر آتے ہیں، کیسے شاندار، کیسے باعظمت۔اور جب خودان کی ذات مقصود ہو جائے ان کی عظمت کس طرح برباد ہو جاتی ہے۔ہیئت دان کس طرح بے رحمی سے ان کو چیر پھاڑ کر ایک دھاتوں کا تو وہ ایک گیسوں کا مجموعہ ثابت کر دیتے ہیں۔میں نے اس خیال کے پیدا ہونے پر پہلے تو حسرت سے آسمانوں کی طرف اور ان کے کھوئے ہوئے حسن کی طرف دیکھا اور پھر انسان اور اس کی گم شدہ عقل کی طرف نظر کی۔میں اسی حال میں تھا کہ ایک نہایت دل کش ، نہایت سریلی آواز ، دلوں کو مسحور کر دینے والی ، افکار کو اپنا لینے والی میرے کانوں میں پڑی۔اس نے پر جلال و شاندار لہجہ سے کہا نہ سورج کو سجدہ کرو اور نہ چاند کو بلکہ صرف اللہ کو جو ایک ہی ہے اور جس کا قبضہ ان سب فلکی اجرام پر اور دوسری چیزوں پر ہے سجدہ کرو 1۔اور یاد رکھو کہ اس نے سورج کو بھی پیدا کیا ہے اور چاند کو بھی اور ستاروں کو بھی اور یہ سب اس کے ایک ادنیٰ اشارے کے تابع ہیں اور خادم ہیں۔یادرکھو کہ وہی پیدا کرتا اور اسی کا حکم چلتا ہے۔وہ آواز کیسی مؤثر کیسی موہ لینے والی تھی۔زمین کی حالت یوں معلوم ہوئی جیسے کسی پر قشعرير 20 آ جاتا ہے۔انسان یوں معلوم ہوا جیسے سوتے ہوئے جاگ پڑتے ہیں ، ندامت، شرمندگی اور حیا کے ساتھ ٹمٹماتے ہوئے چہروں کے ساتھ لوگ اٹھے اور اپنے پیدا کرنے والے کے آگے جھک گئے۔آسمان پھر خوبصورت نظر آنے لگا، از لی ابدی معشوق نے پھر سورج، چاند اور ستاروں کی جھلملیوں میں سے دنیا کو جھانکنا شروع کیا، پھر دنیا کا ذرہ ذرہ جلال الہی کا مظہر بن گیا، ہیئت دانوں کے سب استدلال اور سب دلیلیں حقیر نظر آنے لگیں ، صاحب دل بول اٹھے تم اپنی گیسوں اور دھاتوں کے نظریوں کو اپنے گھر لے جاؤ۔تم چھلکے کو تو دیکھتے ہو مغز پر نگہ نہیں ڈالتے۔تم ان دھاتوں کے طوماروں اور گیسوں کے مجموعوں کے پیچھے نہیں دیکھتے کس کا حسن