سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 56
سيرة النبي علي 56 جلد 4 ہے اپنے گرد و پیش بیٹھے ہوئے لوگوں کو اس لہجہ میں کہ گویا وہ ایک بڑے راز کی بات انہیں بتا رہے ہیں ایسی بات کہ جسے دوسرے لوگ عمر بھر کی جستجو اور بیسیوں سال کی تپتیا کے بعد بھی حاصل نہیں کر سکتے یہ کہہ رہے تھے کہ فرشتے اصل میں خدا کی بیٹیاں ہیں 3 اور جو کام خدا تعالیٰ سے کرانا ہو اس کا بہترین علاج یہ ہے کہ ان خدا کی بیٹیوں کو قابو میں کیا جائے اور وہ بزعم خود ایسی عبادتیں جن سے فرشتے قابو آتے ہیں لوگوں کو بتا رہے تھے۔لوگوں کے چہرے خوشی سے جگمگا رہے تھے اور ان کے دل ان علم روحانی کا خزانہ لٹانے والوں پر قربان ہو رہے تھے۔پھر میری ایک اور طرف نگہ پڑی میں نے دیکھا ویسے ہی جبوں والے کچھ اور لوگ اپنے عقیدت مندوں کے جھرمٹ میں ایک کنویں کے پاس کھڑے ہوئے کچھ راز و نیاز کی باتیں کر رہے تھے۔وہ انہیں بتا رہے تھے جس طرح ایک گہرا راز بتایا جاتا ہے کہ اس کنویں میں ہاروت و ماروت دوفرشتے ایک فاحشہ سے عشق کرنے کے جرم میں قید کئے گئے تھے۔کچھ جُبہ پوش تو اصرار کر رہے تھے کہ وہ اب بھی اس جگہ قید ہیں اور بعض تو یہاں تک کہتے تھے کہ ان کے کسی استاد نے ان کو الٹا لٹکے ہوئے دیکھا بھی ہے جسے سن کر کئی عقیدت مندوں کے جسم پر پھریری آجاتی تھی۔تب مجھے معلوم ہوا کہ انسانی گناہ نے فرشتوں کو بھی نہیں چھوڑا۔میں اسی حیرت میں تھا کہ میں نے پھر وہی آواز دلکش، مؤثر ، شیریں آواز ، محبت اور جلال کی ایک عجیب آمیزش کے ساتھ بلند ہوتی ہوئی سنی۔اس نے کہا فرشتے خدا کے بندے ہیں نہ کہ بیٹیاں 4 اور وہ پوری طرح اس کے فرمانبردار ہیں۔کبھی بھی اس کے احکام کی نافرمانی نہیں کرتے 5۔لوگوں میں پھر بیداری پیدا ہوئی۔بہت سے لوگ خواب غفلت سے چونکے اور اپنے پہلے عقائد پر شرمندہ اور نادم ہوئے۔کئی اونچی عمارتیں جو خدا کی بیٹیوں کے نام سے کھڑی کی گئی تھیں گرا دی گئیں اور ان کی جگہ خدائے واحد و قہار کی عبادت گاہیں کھڑی کی گئیں۔وہ کنویں جو فرشتوں کے گناہوں کی یادگار تھے اجاڑ ہو گئے۔زائرین نے ان کی زیارت ترک کر دی۔میں نے دیکھا فرشتے خوش تھے۔گویا