سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 53
سيرة النبي علي 53 جلد 4 گیا ے چاند کو کل دیکھ کر میں سخت بیکل ہو کیونکہ کچھ کچھ تھا نشاں اُس میں جمال یار کا نہ معلوم میں اس خیال میں کب تک محو رہتا کہ میں نے عالم خیال میں دیکھا سورج کی روشنی زرد دھیمی پڑنے لگی ، چاند اور ستارے مٹتے ہوئے معلوم ہونے لگے۔یوں معلوم ہوتا تھا کہ وہ وجود جو ان کی چمک دمک کا باعث تھا ناراض ہو کر پیچھے ہٹ گیا ہے اور جھروکہ جھانکنے والے کے چہرہ کے نور سے محروم ہو گیا ہے۔وہ زندہ نظر آنے والے گرے بے جان مٹی کے ڈھیر نظر آنے لگے۔میں نے گھبرا کر ادھر اُدھر دیکھا کہ یہ کیا ہونے لگا ہے کہ میری نظر نیچے کی گہرائیوں میں اپنے ہم جنس انسانوں پر پڑی۔میں نے دیکھا ہزاروں لاکھوں بظاہر عقلمند نظر آنے والے انسان سر کے بل گرے ہوئے یا گھٹنے ٹیک کر بیٹھے ہوئے گڑ گڑا کر اور رو رو کر دعائیں کر رہے ہیں۔کوئی کہتا ہے اے سورج دیوتا! مجھ پر نظر کر، میرے اندھیرے گھر کو اپنی شعاعوں سے منور کر، میری بیوی کی بے اولا د گود کو اولاد سے بھر دے اور میرے دشمنوں کو تباہ کر۔کوئی کہتا اے چند ماہا! میری تاریکی کی گھڑیوں کو اپنے نور سے روشن کر اور غموں اور رنجوں کو ہمارے گھر سے دور کر۔کوئی کہتا اے ستارو! تم خوشیوں کا موجب اور میری راحتوں کا منبع ہو۔اے زہرہ! تو محبت سے ہمارے گھروں کو بھر دے اور ہمارے پیاروں کے دل ہماری طرف پھیر دے۔اور اے مریخ! تو ہم پر ناراض نہ ہو اور مصیبتوں کی گھڑیاں ہم پر نہ لا ، اپنا غصہ ہمارے دشمنوں کی طرف پھیر دے۔میرا دل اس گھناؤنے نظارہ کو دیکھ کر سخت گھبرا گیا اور میں نے کہا انسان نے کیسی خوبصورت چیزوں کو کیسا گھناؤنا بنا دیا ہے۔جب عاشق محبوب کے چہرے کی بجائے اس کی نقاب سے عشق کرنے لگتا ہے، جب اس کے حقیقی حسن کو بھلا کر وہ اس کے لباس کی زیبائش پر فریفتہ ہونے لگتا ہے تو محبوب اس لباس سے نکل جاتا ہے اور خالی لباس عاشق کی طرف پھینک دیتا ہے کہ جا اور اسے دیکھا کر۔مگر وہی لباس جو معشوق