سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 52
سيرة النبي علي 42 52 رحمة للعالمين عالي حضرت مصلح موعود کا یہ مضمون 26 نومبر 1933ء کے الفضل خاتم النبین نمبر میں شائع ہوا۔آپ تحریر فرماتے ہیں:۔انسانی دماغ بھی اللہ تعالیٰ نے عجیب قسم کا بنایا ہے۔کئی کئی حالتوں میں سے وہ گزرتا ہے۔ایک وقت فلسفہ کے دلائل اسے الجھا رہے ہوتے ہیں تو دوسرے وقت وجدان کی ہوائیں اسے اڑا رہی ہوتی ہیں۔ایک وقت علم کے غوامض اسے نیچے کی طرف کھینچ رہے ہوتے ہیں تو دوسرے وقت عشق کی بلندیاں اسے اوپر کو اٹھا رہی ہوتی ہیں۔انہی حالتوں میں سے ایک حالت مجھ پر طاری تھی۔میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پر غور کر رہا تھا میری عقل اس کی حد بندی کرنا چاہتی تھی کہ میرا دل میرے ہاتھوں سے نکلنے لگا۔اس بحر نا پیدا کنار کی شناوری نے میری فکر کوسب قیود سے آزاد کر دیا اور وہ زمانہ اور مکان کی قید سے آزاد ہو کر اپنی ہمت اور طاقت سے بڑھ کر پرواز کرنے لگا۔آسمان کیلئے رحمت میری نگاہ آسمانوں کی طرف گئی اور میں نے روشن سورج اور چمکتے ہوئے ستاروں کو دیکھا وہ کیسے خوش منظر تھے ، وہ کیسے دل لبھانے والے تھے ، ان کی ہر ہر شعاع محبت کی چمک سے درخشاں تھی۔یوں معلوم ہوتا تھا جیسے جھلملیوں سے کوئی معشوق محو نظارہ ہے۔میرا دل اس نظارہ کو دیکھ کر جیتاب ہو گیا۔مجھے اس روشنی میں کسی کی صورت نظر آتی تھی، کسی ازلی ابدی معشوق کی جو سب حسنوں کی کان ہے۔مجھ پر بالکل اسی کی سی حالت طاری تھی جس نے کہا ہے جلد 4