سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 462
سيرة النبي عمار 462 جلد 4 کھا جائے گا۔چنانچہ اس نے جلدی جلدی لقمے لینے شروع کر دیئے۔تھوڑی دیر کے بعد اس نے خیال کیا کہ میری یہ حرکت تو اس نے دیکھ لی ہو گی اور ضرور اس نے بھی اس کا کوئی علاج تجویز کر لیا ہو گا چنانچہ یہ خیال آنے پر اس نے ایک ہاتھ سے کھانا شروع کر دیا اور دوسرے ہاتھ سے چاول اٹھا اٹھا کر اپنی جھولی میں ڈالنے شروع کر دیئے۔اب دوسرا شخص اس اندھے کی یہ حرکت دیکھ کر دل ہی دل میں ہنس رہا تھا اور بجائے کچھ کھانے کے وہ اس اندھے کی حرکات کو دیکھ رہا تھا۔مگر اس اندھے نے سمجھا کہ اس نے ضرور اب کوئی اور تجویز زیادہ کھانے کی سوچ لی ہو گی۔یہ خیال آتے ہی اس نے تھالی پر ہاتھ مار کر اسے اٹھا لیا اور کہنے لگا بس اب میرا ہی حصہ ہے۔یہی ان لوگوں کی حالت ہے نہ حقیقت کو سوچتے ہیں نہ اصلیت کو مدنظر رکھتے صلى الله ہیں۔رسول کریم ملے تو کہیں پہنچ گئے اور یہ بیٹھے کہہ رہے ہیں کہ شرک فی النبوۃ ہو گیا، شرک فی النبوۃ ہو گیا حالانکہ یہ ایسی ہی بات ہے جیسے بادشاہ چلتا ہے تو ساتھ ہی پہریدار بھی چلنے لگ جاتا ہے، جب بادشاہ ٹھہرتا ہے تو پہریدار بھی رک جاتا ہے۔اب اگر کوئی کہے کہ یہ پہریدار کیسا گستاخ ہے ابھی تھوڑی دیر ہوئی جہاں بادشاہ کھڑا تھا وہاں اب یہ بھی کھڑا ہے تو وہ جاہل اور احمق ہی کہلائے گا۔اسی طرح محمد رسول اللہ یہ تو ہر گھڑی آگے بڑھ رہے ہیں اور آپ کے آگے بڑھنے کی وجہ سے ہی آپ کے امتیوں کو ترقی ہوتی ہے مگر یہ شور مچاتے چلے جاتے ہیں کہ حضرت مرزا صاحب کے دعویٰ نبوت سے شرک فی النبوۃ ہو گیا۔تو ختم نبوت کا مسئلہ کوئی ایسا مشکل نہیں مگر لوگوں نے خواہ مخواہ اس میں الجھن ڈال رکھی ہے۔ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا درجہ اتنا بلند ہے کہ کوئی انسان وہاں تک نہیں پہنچ سکتا۔ہاں آپ کی فرمانبرداری ، آپ کی غلامی اور آپ کی کامل اتباع میں اگر کوئی شخص نبوت کا مقام حاصل کر لے تو اس میں آپ کی ہتک نہیں کیونکہ وہ بہر حال رسول کریم ﷺ کا غلام ہو گا۔پس یہ مسائل ایسے نہیں کہ جن میں کوئی پیچیدگی ہو۔سیدھی سادی باتیں ہیں۔لیکن اگر یہ