سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 463 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 463

سيرة النبي عليه 463 جلد 4 صلى الله سے با تیں بھی کسی کی سمجھ میں نہ آئیں تو وہ ایک موٹی بات دیکھ لے کہ اس وقت دنیا میں اسلام کو عزت اور شان و شوکت حاصل ہے یا وہ کسمپرسی کی حالت میں ہے؟ اگر اسلام اس وقت اُسی شان اور اُسی شوکت کے ساتھ قائم ہے جس شان اور شوکت کے ساتھ وہ آج سے تیرہ سو برس پہلے قائم تھا تو بیشک علاج کی کوئی ضرورت نہیں۔لیکن اگر یہ دکھائی دے رہا ہو کہ مسلمان قرآن سے بے بہرہ ہیں، اس کی تعلیم سے غافل ہیں، بادشاہتیں مسلمانوں کے ہاتھ سے جاتی رہیں، حکومتیں ضائع ہو گئیں تو ہر شخص صلى الله اپنے دل میں خود ہی سوچے اور غور کرے کہ خدا نے اس وقت رسول کریم ع کی عزت کو بلند کرنے کا کیا سامان کیا ہے۔وہ اسلام جو رسول کریم ﷺ کو اپنی جان بھی زیادہ عزیز تھا اس پر حملے پر حملے ہو رہے ہیں مگر مسلمان کہتے ہیں کہ اس کے علاج کی کوئی ضرورت نہیں۔بلکہ خدا اگر کہے کہ میں کسی کو اصلاح کے لئے بھیجتا ہوں تو یہ مولوی کہنے لگ جاتے ہیں کہ نہ نہ ہمیں کسی مصلح کی ضرورت نہیں۔پس اگر اسلام اچھی حالت میں ہے تو بے شک کہہ دو کہ حضرت مرزا صاحب نَعُوذُ بِاللهِ جھوٹے تھے لیکن اگر قرآن کی طرف سے لوگوں کی توجہ ہٹ چکی ہے، اسلام سے وہ غافل ہو گئے ہیں اور عملی حالتوں میں وہ بالکل سست ہو گئے تو پھر ماننا پڑے گا کہ آپ سچے تھے اور آپ نے عین وقت پر آ کر اسلام کو دشمنوں کے نرغہ سے بچایا۔ورنہ اگر اس زمانہ میں بھی اسلام کی مدد کے لئے خدا تعالیٰ نے توجہ نہیں کی تو وہ کب کرے گا۔آج خود مسلمان کہلانے والے اسلامی تعلیموں پر عمل چھوڑ چکے ہیں اور وہ خدا کا محبوب جو اولین و آخرین کا سردار ہے اس پر عیسائی ہیں تو وہ حملے کر رہے ہیں ، ہندو ہیں تو وہ حملے کر رہے ہیں ، سکھ ہیں تو وہ حملے کر رہے ہیں۔وہ خدا کا رسول جو سارے انسانوں میں سے مقدس ترین انسان ہے جو سید ولد آدم ہے اور جس کی بلند شان تک نہ کوئی پہنچا اور نہ کوئی آئندہ پہنچ سکتا ہے اس کی عزت کو اس طرح پارہ پارہ کیا جا رہا ہے کہ گویا اس کی کوئی قیمت ہی نہیں۔یہی وہ حالات تھے جن کو دیکھ کر خدا تعالیٰ کی غیرت بھڑ کی اور اس نے