سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 461
سيرة النبي علي 461 جلد 4 ایسا نہیں جب آپ کے مدارج بلند نہیں ہوتے۔مگر ہمارے مخالف کنویں کے مینڈک صلى الله کی طرح یہ خیال کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ تیرہ سو سال سے ایک مقام پر بیٹھے ہوئے ہیں حالانکہ آپ روز بروز درجہ میں بڑھ رہے ہیں۔اور جب ہر لمحہ آپ کے درجات میں ترقی ہو رہی ہے تو لازماً آپ کا پیرو بھی درجات میں ترقی کرتا جائے گا اور آپ کے نقش قدم پر چلتا ہوا ان مقامات سے گزرتا جائے گا جن مقامات سے آپ گزر چکے ہیں لیکن آپ کا پیرو اور نقش قدم پر چلنے کا دعوی کرتے ہوئے وہ کبھی آپ کے برابر نہیں ہو سکتا اور نہ آپ سے آگے بڑھ سکتا ہے کیونکہ آپ کے درجات میں ہر لحہ ترقی ہو رہی ہے اور آپ کا متبع اور پیر و جتنا بھی آگے بڑھے گا وہ بہر حال آپ کے پیچھے ہی رہے گا اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام باوجود نبوت کے مقام پر فائز ہونے کے کبھی آپ کے برابر نہیں ہو سکتے کیونکہ آپ نے یہ مقام آپ کی کامل پیروی سے حاصل کیا ہے۔یہی مضمون ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس شعر میں بیان فرمایا ہم ہوئے خیر امم تجھ سے ہی اے خیر رُسل تیرے بڑھنے سے قدم آگے بڑھایا ہم نے 3 صلى الله یعنی اے محمد رسول اللہ ! ( ع ) لوگ مجھے کہتے ہیں کہ تو نبی کس طرح ہو گیا میں تو نبی اس لئے ہوا کہ تو خیر رُسُل ہے۔تو جتنا جتنا آگے بڑھتا ہے اتنا اتنا میں بھی بڑھتا چلا جاتا ہوں۔پس تو آگے ہے اور میں پیچھے۔مگر مولوی کہتے ہیں کہ یہ شرک فی النبوة ہو گیا۔حالانکہ یہ شرک کس طرح ہو گیا جب کہ تیرے مقام کو میں حاصل ہی نہیں کر سکتا اور جبکہ میری ترقی تیری ترقی پر منحصر ہے۔پس رسول کریم ﷺ تو ہر روز بلکہ ہر لمحہ اپنے درجہ میں بڑھ رہے ہیں مگر یہ مخالف و ہیں ہاتھ مار رہے ہیں۔اور ان کی مثال ایسی ہے جیسے کہتے ہیں کہ کوئی اندھا کسی دعوت میں شریک ہوا اس کے ساتھ ایک سو جا کھا بیٹھ گیا۔اندھے نے خیال کیا کہ یہ تو سو جا کھا ہے اور میں اندھا یہ ضرور زیادہ