سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 460
سيرة النبي عمال 460 جلد 4 اور بھائی موجود ہیں انہیں معلوم نہ تھا کہ جنگ ہونے والی ہے اگر معلوم ہوتا تو وہ بھی ہمارے ساتھ شامل ہوتے۔آپ ان کے پاس پہنچ جائیے وہ آپ کی حفاظت کریں گے اور دشمن کے شر سے آپ محفوظ رہیں گے 2۔یہ کتنی شاندار قربانی ہے جو صحابہؓ نے پیش کی۔اس کے مقابلہ میں کیا نمونہ ہے جو حضرت عیسی علیہ السلام کے حواریوں نے پیش کیا اور کون کہہ سکتا ہے کہ وہ رسول کریم ﷺ کے صحابہ کی محبت کی گرد کو بھی پہنچے تھے۔پس یقیناً صحابہ رسول کریم عمل سے بہت زیادہ محبت رکھتے تھے مگر وہ مشرک صلى الله نہیں ہو گئے تھے کیونکہ خدا کی وہ محبت جو رسول کریم ﷺ نے ان کے دلوں میں قائم کی تھی وہ اس سے بھی بہت اونچی اور بہت بلند تھی۔پس اگر حضرت عیسی علیہ السلام کے زمانہ میں جتنی محبت خدا سے کی جاتی تھی اتنی ہی محبت رسول کریم ﷺ سے کی جائے تو بھی یہ شرک نہیں ہوسکتا کیونکہ رسول کریم ﷺ نے خدا تعالیٰ کی محبت کا معیار اور زیادہ بلند کر دیا اور اس کو اتنا اونچا کر دیا کہ آپ کی محبت بھی اس کے مقابلہ میں بیچ ہو جاتی ہے۔پس آج رسول کریم علیہ سے اتنی محبت کرنا جتنی حضرت عیسی علیہ السلام کے زمانہ میں خدا سے کی جاتی تھی شرک نہیں۔کیونکہ خدا کی محبت آج اور زیادہ بلند ہو چکی ہے۔لیکن اگر حضرت عیسی علیہ السلام کے زمانہ میں کوئی حضرت عیسی علیہ السلام سے اتنی محبت کرتا جتنی وہ خدا سے کرتا تھا تو یہ شرک ہوتا۔جیسے آج کوئی رسول کریم می سے اتنی محبت کرے جتنی وہ خدا سے کرتا ہے تو یہ شرک ہے۔یہی حال نبوت کا ہے۔ہمارا عقیدہ ہے کہ رسول کریم ﷺ کا درجہ ہر روز بڑھتا ہے اور کوئی دن آپ پر ایسا نہیں آتا جب آپ پہلے مقام سے اور زیادہ آگے نہیں نکل جاتے۔چنانچہ میں نے جس وقت یہ تقریر شروع کی تھی اُس وقت رسول کریم ﷺ جس مقام قرب پر فائز تھے میں یقین رکھتا ہوں کہ اِس وقت وہ اُس مقام سے بہت زیادہ آگے نکل چکے ہیں۔کوئی لمحہ ایسا نہیں جس میں رسول کریم ﷺ کے درجہ میں ترقی نہیں ہوتی اور کوئی وقت صلى الله الله علوم