سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 459
سيرة النبي متر 459 جلد 4 يَارَسُولَ اللهِ! جس وقت یہ معاہدہ ہوا تھا اُس وقت ہم نے آپ کی شان کو پورے طور پر پہچانا نہیں تھا اور غلطی سے یہ معاہدہ کر لیا مگر اس کے بعد جب آپ ہم میں رہے تو ہمیں معلوم ہوا کہ آپ کی کیا شان ہے۔پس اب اس معاہدے کا کوئی سوال ہی نہیں۔سامنے سمندر تھا انہوں نے اس سمندر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا يَارَسُولَ اللَّهِ! اگر آپ حکم دیں کہ اس سمندر میں کود جاؤ تو ہم اپنے گھوڑے اس سمندر میں ڈالنے کے لئے تیار ہیں اور يَا رَسُولَ اللهِ! آپ جنگ کا کیا پوچھتے ہیں خدا کی قسم ! ہم آپ کے آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے اور دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے اور دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک وہ ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ گزرے 1۔پھر ان کی محبت کا یہ حال تھا کہ جب بدر کے میدان میں پہنچے تو صحابہ نے ایک اونچی جگہ بنا کر رسول کریم ﷺ کو وہاں بٹھا دیا اور پھر انہوں نے ایک دوسرے سے مشورہ کر کے دریافت کیا کہ سب سے زیادہ تیز رفتار اونٹنی کس کے پاس ہے۔چنانچہ سب سے زیادہ تیز رفتار اونٹنی لے کر انہوں نے رسول کریم ﷺ کے قریب باندھ دی۔رسول کریم ہے نے اسے دیکھا تو فرمایا یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! ہم تھوڑے ہیں اور دشمن بہت زیادہ ہے ہم ڈرتے ہیں کہ کہیں ہم تمام کے تمام اس جگہ شہید نہ ہو جائیں۔ہمیں اپنی موت کا تو کوئی غم نہیں يَا رَسُولَ اللهِ! ہمیں آپ کا خیال ہے کہ آپ کو کوئی تکلیف نہ ہو۔ہم اگر مر گئے تو اسلام کو کچھ نقصان نہیں ہو گا لیکن آپ کے ساتھ اسلام کی زندگی وابستہ ہے پس ضروری ہے کہ ہم آپ کی حفاظت کا سامان کر دیں۔يَا رَسُولَ اللهِ ! حضرت ابوبکر کو ہم نے آپ کی حفاظت کے لئے مقرر کر دیا ہے اور یہ ایک نہایت تیز رفتار اونٹنی آپ کے قریب باندھ دی ہے۔اگر خدانخواستہ ایسا وقت آئے کہ ہم ایک ایک کر کے یہاں ڈھیر ہو جائیں تو يَا رَسُولَ اللہ ! یہ اونٹنی موجود ہے اس پر سوار ہو جائیے اور مدینہ پہنچ جائیے۔وہاں ہمارے کچھ الله