سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 451 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 451

سيرة النبي علي 451 جلد 4 کی قبولیت کا مادہ پہلے سے خدا نے ہمارے دماغ اور ہمارے ذہن میں نہیں رکھا۔پس فرمایا مَالَمْ يُنَزِّلُ بِهِ عَلَيْكُمْ سُلْطنًا تم کہہ دو کہ تم ان تعلیموں کے پیچھے چل رہے ہو جو فطرت کے خلاف ہیں اور میں تم کو ان باتوں کی طرف بلاتا ہوں جو تمہاری فطرت میں داخل ہیں اب جوں جوں انسان اپنی فطرت کو پڑھنے کی کوشش کرے گا اُس کا دل پکار اٹھے گا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں جو کتاب ہے وہ بالکل سچی ہے کیونکہ اس کا دوسرا نسخہ میرے ذہن میں بھی ہے۔اس طرح آہستہ آہستہ دنیا ایک مرکز پر آ جائے گی اور ایک ہی خیال پر متحد ہو جائے گی جس کے نتیجہ میں امن قائم ہو جائے گا۔اب ایک اور سوال باقی رہ جاتا ہے اور وہ یہ کہ بے شک محمد صلی اللہ علیہ وسلم مدرس امن ہیں، بے شک آپ نے امن کا مدرسہ دنیا میں جاری کر دیا، بے شک امن کا کورس خدا نے مقرر کر دیا، بے شک اسلام نے تعلیم وہ دی ہے جو فطرت کے عین مطابق ہے اور جسے دیکھ کر انسانی فطرت پکار اٹھتی ہے کہ واقعہ میں یہ صحیح تعلیم ہے مگر کیا لڑائی بالکل ہی بری چیز ہے؟ قرآن کریم اس کا بھی جواب دیتا اور فرماتا ہے کہ امن کے قیام کے لئے بعض دفعہ جنگ کی بھی ضرورت ہوتی ہے چنانچہ فرمایا وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَفَسَدَتِ الْأَرْضُ 12 کہ بے شک امن ایک قیمتی چیز ہے، بے شک اس کی تعلیم خدا نے انسانی دماغ میں رکھی ہے مگر کبھی انسان کا دماغ فطرت سے اتنا بعید ہو جاتا ہے اور انسانی عقیدے مرکز سے اتنے پرے ہٹ جاتے ہیں کہ وہ امن سے بالکل دور جا پڑتے ہیں اور نہ صرف امن سے دور جا پڑتے ہیں بلکہ حریت ضمیر کو بھی باطل کرنا چاہتے ہیں۔فرماتا ہے ایسی حالت میں امن کے قیام اور اس کو وسعت دینے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ جو شرارتی ہیں ان کا مقابلہ کیا جائے۔پس وہ جنگ امن مٹانے کے لئے نہیں بلکہ امن قائم کرنے کے لئے ہوگی۔جیسے اگر انسان کے جسم کا کوئی عضو سر گل جائے تو فیس خرچ کر کے بھی انسان