سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 452
سيرة النبي عمال 452 جلد 4 ڈاکٹر سے کہتا ہے کہ اس عضو کو کاٹ دو۔اسی طرح کبھی ایسے گروہ دنیا میں پیدا ہو جاتے ہیں جو سرطان اور کینسر کا مادہ اپنے اندر رکھتے ہیں اور ضروری ہوتا ہے کہ ان کا آپریشن کیا جائے تا وہ باقی حصہ قوم کو بھی گندہ اور ناپاک نہ کر دیں۔پس فرمایا وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ اگر بعض کے ذریعہ اللہ تعالیٰ بعض کی شرارتوں کو دور نہ کرتا تو نَفَسَدَتِ بجائے امن قائم ہونے کے فساد بڑھ جاتا۔جس طرح سپاہیوں کو بعض دفعہ لاٹھی چارج کا حکم دیا جاتا ہے اسی طرح بعض دفعہ ہم بھی اپنے بندوں کو اجازت دیتے اور انہیں کہتے ہیں جاؤ اور لاٹھی چارج کرواس لئے کہ نَفَسَدَتِ اگر لاٹھی چارج نہ کیا جاتا تو ساری دنیا کا امن برباد ہو جاتا۔وَلَكِنَّ اللهَ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْعَلَمِيْنَ 13 یعنی اللہ صرف ایک قوم کو ہی امن نہیں دینا چاہتا بلکہ وہ ساری دنیا کو با امن دیکھنے کا خواہشمند ہے اور چونکہ ان لوگوں سے دنیا کا امن برباد ہوتا ہے اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ ان کا مقابلہ کیا جائے تا ساری دنیا میں امن قائم ہو۔بے شک اس کے نتیجہ میں خود ان لوگوں کا امن مٹ جائے گا مگر دنیا میں ہمیشہ موازنہ کیا جاتا ہے جب ایک بڑا فائدہ چھوٹے فائدے سے ٹکرا جائے تو اُس وقت بڑے فائدہ کو لے لیا جاتا ہے اور چھوٹے فائدہ کو قربان کر دیا جاتا ہے۔اسی طرح کثیر حصہ دنیا کے امن کی خاطر ایک قلیل گروہ سے جنگ کی جاتی ہے اور اُس وقت تک اُسے نہیں چھوڑا جاتا جب تک وہ خلاف امن حرکات سے باز نہ آجائے۔یہ ایک مختصر سا ڈھانچہ اُس تعلیم کا ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام امن کے سلسلہ میں دی۔میں نے بتایا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح دنیا میں امن قائم کیا اور کس طرح بدامنی کے اسباب کا آپ نے قلع قمع کیا۔پس آپ کا وجود دنیا کا سب سے بڑا محسن ہے اور ہمارا فرض ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے ماتحت کہ یاَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا 14 آپ پر درود بھیجیں اور کہیں اللهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى الِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ