سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 450 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 450

سيرة النبي عمال 450 جلد 4 رب ہے تو میرے دل میں ان قوموں کی نفرت کس طرح ہو سکتی ہے کیونکہ میں رب العلمین کے لفظ کے نیچے تمام قوموں ، تمام نسلوں اور تمام مذہبوں کو لے آتا ہوں۔میں جب نماز میں اَلْحَمدُ للهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ کہتا ہوں تو دوسرے الفاظ میں میں یہ کہتا ہوں کہ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْمَذَاهِبِ كُلِهَا یعنی میں اُس خدا کی تعریف کرتا ہوں جو تمام مذاہب کا رب ہے۔اسی طرح جب میں اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ کہتا ہوں تو اس کے معنی یہ بھی ہوتے ہیں کہ اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْأَقْوَامِ كُلِهَا یعنی میں اُس خدا کی تعریف کرتا ہوں جو تمام اقوام کا رب ہے۔اسی طرح جب میں الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ کہتا ہوں تو اس کے یہ معنی بھی ہوتے ہیں کہ الْحَمُدُ لِلَّهِ رَبِّ الْبَلادِ كُتِهَا یعنی میں اُس خدا کی تعریف کرتا ہوں جو تمام ملکوں کا رب ہے اور جب کہ میں تمام اقوام ، تمام ملکوں اور تمام لوگوں میں حسن تسلیم کروں گا تو یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ میں ان سے عداوت رکھ سکوں۔پس اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ میں بتا دیا گیا ہے کہ اگر حقیقی توحید قائم ہو اور رب العلمین کی حمد سے انسان کی زبان تر ہو تو یہ ممکن ہی نہیں کہ کسی قوم کا کینہ انسان کے دل میں رہے اور ایک طرف تو وہ ان کی بربادی کی خواہش رکھے اور دوسری طرف ان کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ کی حمد اور تعریف بھی کرے۔دوسرا نکتہ اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ یہ نازل فرمایا ہے کہ مَالَمْ يُنَزِّلُ بِهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَنَّا یعنی دنیا میں امن تبھی برباد ہوتا ہے جب انسان فطرتی مذہب کو چھوڑ کر رسم و رواج کے پیچھے چل پڑتا ہے۔اگر انسان طبعی اور فطرتی باتوں پر قائم رہے تو کبھی لڑائیاں اور جھگڑے نہ ہوں۔یہی وجہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسلام دین فطرت ہے۔اور حقیقت یہی ہے کہ جو دینِ فطرت ہوگا وہی دنیا میں امن قائم کر سکے گا اور وہی مذہب امن پھیلا سکے گا جس کا ایک ایک ٹکڑا انسان کے دماغ میں ہو۔آخر یہ ہو کس طرح سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم کو اُس تعلیم کی طرف بلائے جس کا جواب ہماری فطرت میں نہیں اور جس